.

مغربی کنارا: کتے پر پتھر پھینکنے والا پانچ سالہ فلسطینی بچہ گرفتار

"کم سنوں کی گرفتاری اسرائیلی قانون کی خلاف ورزی ہے"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل میں کام کرنے والی انسانی حقوق کی تنظیموں نے اسرائیلی فوج کے ہاتھوں پانچ سالہ فلسطینی بچے کی گرفتاری کی مذمت کتے ہوئے اس غیر قانونی کاررو ائی کا سخت نوٹس لیا ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیم 'بتسلیم' نے کم سن فلسطینی بچے وديع مسودة کی 'گرفتاری' کا ثبوت ویڈیو ٹیپ پر محفوظ کر لیا تھا، جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اسرائیلی فوج نے مغربی کنارے کے تاریخی شہرالخلیل میں مسجد ابراہیمی کے قریب ایک بچے کو اس وقت گرفتار کر لیا جب وہ ایک گلی میں اپنے چاروں طرف مسلح فوجیوں کو دیکھ کر اونچی آواز میں رو رہا تھا۔

اسرائیلی فوجیوں نے اسے گرفتار کر کے فوجی گاڑی میں بٹھا لیا اور کچھ دیربعد بچے کو اسی گاڑی میں اس کے گھر لے کر گئے، جہاں سے بچے کے والد کو بھی گرفتار کر لیا اور اپنے فوجی کیمپ پر لے آئے۔ اسرائِیلی فوجی پانچ سالہ بچے اوراس کے بے خبر والد سے تفتیش کرتے رہے۔

بچے کا کہنا تھا کہ اس نے ایک کتے پر پتھر پھینکا تھا مگر وہ اسرائیلی فوجی گاڑی کو لگ گیا۔ تاہم فوج کے متعلقہ اہلکاروں نے کچھ دیر بعد پانچ سالہ ''ملزم''اور اس کے گرفتار والد پولیس کے حوالے کر دیا۔ پولیس نے بھی دونوں ''ملزموں'' سے تفتیش کی مگر بعد ازاں انہیں چھوڑ دیا۔

واضح رہے مغربی کنارے کے اس علاقے، جہاں سے پانچ سال کے بچے کو گرفتار کیا گیا، اس علاقے میں اسرائِیلی فوج دنیا بھر سے آئے یہودی آبادکاروں کی حفاظت پر مامور رہتی ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس گرفتاری کو ہر حوالے سے اسرائیلی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ دوسری جانب اسرئیلی فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ گزشتہ پانچ ماہ کے دوران اس علاقے میں ایک سو پچاس صہیونی آبادکارایسے پتھراٶ سے زخمی ہو چکے ہیں۔