.

حمص میں حالات کی ابتری پر اقوام متحدہ کی تشویش

تقریبا دو ہفتوں سے جاری شہر کا محاصرہ اب تک جاری ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ نے خانہ جنگی کے شکار ملک شام کے محاصرہ شدہ شہر حمص کی صورت حال میں مسلسل خرابی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہاں عام شہریوں کے لیے حالات خراب تر ہوتے جا رہے ہیں۔

عالمی ادارے کے مطابق شام کے اس شہر میں مسلح حملوں کے لیے مسلسل ٹینک اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیار بھی استعمال کیے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ شہر کے باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے صدر بشار الاسد کے حامی دستے مسلسل حملے کر رہے ہیں اور 28 جون سے جاری اس شہر کا محاصرہ بھی ابھی تک ختم نہیں ہوا۔

اقوام متحدہ کی انسانی بنیادوں پر امداد کی نگران خاتون عہدیدار ویلیری آموس اور انسانی حقوق کی کمشنر ناوی پلے نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں ایک بار پھر اپیل کی کہ بین الاقوامی امدادی اداروں کو شام کے اس شہر تک رسائی دی جائے۔

ساتھ ہی ویلیری آموس اور ناوی پہلے نے یہ بھی کہا کہ شامی صدر بشار الاسد کی مسلح افواج اور دمشق حکومت کے مخالف مسلح باغی دونوں ہی اس بات سے انکاری ہیں کہ بین الاقوامی امدادی تنظیموں کے کارکنوں کو حمص کے اندر تک رسائی کی صورت میں ان کی سلامتی سے متعلق کوئی ٹھوس ضمانتیں دی جا سکتی ہیں۔

اس دوران اقوام متحدہ اور بین الاقوامی ریڈ کراس کمیٹی نے کہا ہے کہ اگر کسی طرح حمص کے ارد گرد اور اس شہر کے اندر لڑائی روک دی جائے تو حمص میں پھنسے ہوئے عام شہریوں کو امداد کی فراہمی کا عمل فوری طور پر شروع کیا جا سکتا ہے۔

ویلیری آموس اور ناوی پلے نے اپنے مشترکہ بیان میں یہ بھی کہا کہ انہیں بحران زدہ ملک شام میں حمص اور حلب کے شہروں میں تشدد اور خونریزی کے بڑھتے ہوئے واقعات پر گہری تشویش ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے، ’ہماری رائے میں قریب ڈھائی ہزارعام شہری ایسے ہیں جو اس لڑائی کی وجہ سے حمص کے شہر میں پھنس کر رہ گئے ہیں۔ حمص کے لڑائی سے متاثرہ علاقوں میں مسلسل گولہ باری کی بھی اطلاعات ہیں۔ اس کے علاوہ زمینی حملوں کے لیے طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیاروں اور ٹینکوں کا استعمال بھی کیا جا رہا ہے‘۔

عالمی ادارے کی ان دونوں اعلیٰ خواتین اہلکاروں نے مزید کہا، ’رہائشی علاقوں میں حکومت مخالف اپوزیشن کے مسلح گروپوں کی موجودگی سے سویلین آبادی کے لیے خطرات میں واضح اضافہ ہو چکا ہے۔ اقوام متحدہ کی طرف سے ایک بار پھر جنگی فریقین سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ حمص سے شہری آبادی کے انخلاء کے لیے محفوظ راستہ مہیا کریں اور ساتھ ہی انسانی بنیادوں پر ہر قسم کی امداد کی شہر کے اندر تک ترسیل کی بھی اجازت دی جائے‘۔

ویلیری آموس کے بقول عالمی ادارے کی دمشق حکومت اور شامی باغیوں کے ساتھ مکالمت جاری ہے تاہم ابھی تک کسی ایک نے بھی یہ نہیں کہا کہ وہ امدادی کارکنوں اور سول آبادی کو ان کی سلامتی سے متعلق کافی ضمانتیں دینے پر تیار ہیں۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ شام میں مارچ 2011ء سے شروع ہونے والی اسد حکومت کے خلاف مزاحمت کے دوران اب تک ایک لاکھ تک انسان مارے جا چکے ہیں۔ حمص ایک ایسا شہر ہے جو شروع دن سے ہی شامی خانہ جنگی کا مرکز بنا ہوا ہے۔