.

عراقی شہر کرکوک میں بم حملے میں 38 افراد لقمہ اجل بن گئے

گزشتہ کئی مہینوں سے عراق میں پرتشدد کارروائیاں جاری ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے شہر کرکوک کے ایک قہوہ خانے میں ہونے والے بم حملے میں پولیس اور طبی ذرائع کے مطابق کم از کم 38 افراد ہلاک ہو گئے۔ اس طاقتور بم دھماکے میں کئی افراد زخمی بھی ہوئے۔

العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کرکوک کا شہر اپنی آبادی کے حوالے سے نسلی یا مذہبی طور پر کسی ایک گروپ کی اکثریت والا شہر نہیں ہے بلکہ وہاں بڑی تعداد میں کرد باشندے، شیعہ مسلمان اور سنی بھی رہتے ہیں۔ یہ بم دھماکا اتنا طاقتور تھا کہ "ٹی ہاؤس" مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔

دارالحکومت بغداد سے قریب 250 کلو میٹر شمال میں واقع کرکوک میں یہ بم حملہ شہر کے ایک جنوبی علاقے میں اس وقت کیا گیا جب رمضان کے اسلامی مہینے کے پہلے جمعہ کو افطار کے بعد یہ چائے خانہ گاہکوں سے بھرا ہوا تھا۔ اسی لیے اس حملے میں ہلاک شدگان اور زخمیوں کی مجموعی تعداد درجنوں میں رہی۔

عراق میں ایسے بم حملے ملک میں اس سال کے آغاز سے نظر آنے والی عسکریت پسندوں کی ان مسلسل کارروائیوں کا حصہ ہیں، جن کے بعد اب تک متعدد ماہرین اور سیاسی اور سماجی حلقوں کی طرف سے کئی بار یہ تنبیہ بھی کرائی جا چکی ہے کہ عراق اپنے ہاں نسلی اقلیت سے تعلق رکھنے والے کردوں اور شیعہ اور سنی مسلمانوں کے مابین ایک نئی خونریزی کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔ عمومی داخلی کشیدگی اور لگاتار خونریز کارروائیوں کی وجہ سے یہ خطرہ اس لیے بھی موجود ہے کہ ملک میں کردوں، اور شیعہ اور سنی مسلمانوں کے مابین اقتدار میں شراکت کے لیے کوئی دیرپا مصالحتی حل ابھی تک تلاش نہیں کیا جا سکا۔

کرکوک عراق میں تیل کے ذخائر سے مالا مال علاقے کا ایک اہم شہر ہے۔ یہ شہر بغداد میں شیعہ مسلمانوں کی قیادت میں قائم ملکی حکومت اور اقلیتی نسل کے کردوں کے مابین تنازعے کا ایک اہم حصہ ہے۔ کردوں کی خواہش ہے کہ یہ شہر شمالی عراق میں ان کے خود مختار علاقے میں شامل کر دیا جائے۔

کرکوک کی حیثیت سے متعلق ایک عوامی ریفرنڈم سن 2007 میں ہونا تھا مگر سیاسی اختلافات کی وجہ سے یہ ریفرنڈم منعقد نہ کرایا جا سکا۔ یہ شہر عراق میں ایک ایسے علاقے میں واقع ہے جسے ’متنازعہ خطوں‘ والا علاقہ قرار دیا جاتا ہے۔ کرکوک عراقی کردستان اور عرب عراق کے درمیان داخلی سرحد پر واقع ہے، جہاں جمعے کی رات کیے گئے بم حملے کی ذمہ داری ہفتے کی صبح تک کسی بھی گروپ نے قبول نہ کی۔

عراق میں باغیوں اور مسلح مزاحمت کرنے والوں کو گزشتہ مہینوں کے دوران اس لیے کافی طاقت حاصل ہوئی ہے کہ وہ سنی مسلمان اقلیت سے تعلق رکھنے والے افراد کو اپنی صفوں میں شامل کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔ عراق کی سنی اقلیت اس بات کو ناپسند کرتی ہے کہ سن 2003 میں امریکا کی سربراہی میں عراق میں فوجی مداخلت کے بعد سے شیعہ آبادی کو کافی زیادہ غلبہ حاصل ہو چکا ہے۔

اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق عراق میں جون کے مہینے میں عسکریت پسندوں کے حملوں میں کم از کم 761 افراد مارے گئے تھے۔ اس کے علاوہ کل جمعرات کی شام بھی ملک کے مختلف حصوں میں کیے گئے بموں اور آتشیں ہتھیاروں سے حملوں نے کم از کم 44 افراد کی جان لے لی تھی۔