.

مصری فوج ۔ صحرائے سینا میں کارروائی کی خواہشمند

اسرائیلی تعاون سے رفح راہداری طویل عرصے کے لیے بند ہوسکتی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جمعہ کے روز سیکیورٹی چیک پوائنٹ پر باغیوں کے مبینہ حملے کے بعد مصر کا صحرائے سیناء میں سیکیورٹی بڑھاتے ہوئے بھر پور کارراوائی کا ارادہ بن رہا ہے۔

جمعہ کے روز رات گئے جاری ہونے والی میڈیا رپورٹس کے مطابق مصری فوج سیناء میں ایک سیکیورٹی چیک پوائنٹ پر حملے کے بعد علاقے میں باغیوں کے خلاف کریک ڈائون کا ارادہ رکھتی ہے۔ سیناء میں کچھ روز قبل ایک سیکیورٹی چیک پوائنٹ پر حملے کے نتیجے میں ایک مصری پولیس افسر ہلاک جبکہ ایک پولیس افسر زخمی ہوگیا تھا۔

مصر کے پہلے منتخب صدر محمد مرسی کو اقتدار سے نکال باہر کرنے کے بعد سے سیناء میں سیکیورٹی چیک پوائینٹس پر تقریبا روزانہ ہی حملے ہورہے ہیں۔میڈیا رپورٹس کےمطابق ان مسلح گروہوں اور دہشت گردوں کے خلاف آپریشن میں بھاری توپ خانے اور فضائی طاقت کا استعمال کیا جائے گا مگر ان عسکریت پسندوں کو ہتھیار ڈالنے کا موقع بھی دیا جائے گا۔

مصری فوج کے سیناء میں آپریشن کا ابھی کوئی وقت مقرر نہیں کیا گیا ہے کیوںکہ اس مقصد کے لیے اسرائیل کا تعاون بھی نہائت اہم ہوگا۔ جبکہ مصری فوج ابھی مرسی کو اقتدار سے باہر کرنے کے بعد سے پیدا ہونے والی صورتحال کو قابو کرنے کے لئے قاہرہ کی سڑکوں پر موجود ہے۔ تاہم صحرائے سینا کے لیے اسرائیلی تعاون کی صورت میں غزہ اور مصر کے درمیان موجود سرحدی کراسنگ رفح کو بھی غیر معینہ مدت کے لئے بند کر دیا جائے گا۔ یاد رہے اسرائیلی تعاون کے بغیر مصری فوج کیمپ ڈیوڈ معاہدے کے باعث صحرائے سینا میں بھاری اسلحہ استعمال نہیں کر سکتی۔

یروشلم پوسٹ کے مطابق فلسطینی اسلامی تنظیم حماس جو کہ غزہ کی حکمران جماعت ہے، نے مصری حکام کی جانب سے اس کے مسلح کارکنان کی سیناء میں موجودگی کے دعویٰ کو رد کر دیا ہے۔

صدر مرسی نے بھی مصر میں سیکیورٹی کی صورتحال پر قابو پانے کے لئے کافی جدوجہد کی تھی کیونکہ ان کا سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ پر کوئی کنٹرول نہیں تھا۔ مارچ کے مہینے میں رائیٹرز نے بتایا تھا کہ مصر میں فسادات سے بچائو کے لئے کام کرنے والی پولیس اور جبری طور پر بھرتی کئے جانے والے سپاہیوں نے ہڑتال کر دی تھی۔