شام اسلحہ ڈپو پراسرائیلی میزائیل حملہ: امریکی ٹی وی

اسرائیل نے تسلیم کر لیا تو چھ ماہ میں یہ چوتھا حملہ ہوجائیگا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

رواں ہفتے کے دوران شامی علاقے لٹاکیا میں قائم اسلحہ ڈپو پر کیے گئے میزائیل حملے کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ یہ حملہ اسرائیلی فضائیہ نے شام کو روس کی طرف سے فراہم کردہ میزائیلوں کو نشانہ بنانے کے لیے کیا تھا۔

اس امر کا انکشاف معروف امریکی ٹی وی کے ذرائع نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کیا ہے۔ یہ میزائیل حملہ اسرائیل نے تسلیم کر لیا تو چھے ماہ کے دوران شام پر یہ چوتھا حملہ سمجھا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق اس حملے میں اسرائیلی فضائیہ اپنے ساحلی علاقے کے قریب رکھے گئے ان روسی میزائیلوں کو ہدف بنا نا چاہتا تھا جنہیں وہ اپنے لیے خطرہ سمجھتا ہے۔ اس بارے میں شامی اپوزیشن پر مشتمل جیش الحر کے ترجمان قاسم سعدالدین نے حملوں بارے لاعلمی کا اظہار کرتے ہو ئے بتایا کہ یہ حملے باغیوں کی جانب سے نہیں کیے گئے بلکہ یہ فضائی حملے بحیرہ روم سے دور مار میزائلوں سے کیے گئے ہیں۔

اسرائیلی اخبار 'ہارٹز' کی ویب سائٹ کے مطابق ابھی تک کسی اسرائیلی عہدیدار نے شام کے اسلحہ ڈپو پر کیے گئے اس حملے کی تصدیق یا تردید نہیں کی۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس حملے کے بارے میں بتایا ہے کہ اسلحہ ڈیو پر بھاری حملے نے علاقے کو ہلا کر رکھ دیا۔

شام پر ہونے والے ان حملوں میں اگر اسرائیل ملوث پایا گیا تو یہ حالیہ چھے ماہ میں اسرائیل کا چوتھا فضائی حملہ ہو گا۔ امریکی میڈیا ذرائع کے مطابق مئی میں اسرائیل شام پر فضائی حملوں کو تسلیم کر چکا تھا۔ العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق شام پر حملوں کا مقصد لبنان میں حزب اللہ کے جنگجووں کو جدید میزائل تک رسائی کو ناممکن بنانا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں