حزب اللہ تک خطرناک ہتھیار نہیں پہنچنے دیں گے:نیتن یاہو

صہیونی وزیراعظم کا شامی شہر پر فضائی حملے کی تصدیق یا تردید سے انکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیل کے انتہا پسند وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے ایک مرتبہ پھر دھمکی دی ہے کہ وہ لبنانی تنظیم حزب اللہ تک خطرناک ہتھیار پہنچنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

نیتن یاہو کے اس بیان سے قبل اسرائیلی فوج کے شام کے ساحلی شہر اللاذقیہ میں روسی ساختہ جدید جہاز شکن میزائلوں پر حملے کی اطلاع سامنے آئی ہے۔اسرائیلی حکام نے اس سے پہلے خبردار کیا تھا کہ وہ شام کے پاس جدید ہتھیار پہنچنے نہیں دیں گے۔اسرائیلی فوج کا اس سال کے دوران شام میں مبینہ جدید ہتھیاروں پر یہ چوتھا حملہ کیا ہے۔

سی بی ایس کے ٹی وی شو ''فیس دا نیشن'' میں جب صہیونی وزیراعظم سے اسرائیلی فوج کے شامی شہر پرروسی ساختہ یخونٹ میزائلوں پر فضائی حملے کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے نہ تو اس کی تصدیق کی ہے اور نہ اس سے انکار کیا ہے۔

سی بی ایس کی جانب سے اس انٹرویو کے فراہم کردہ مسودے کے مطابق صہیونی وزیراعظم نے کہا کہ ''میری پالیسی لبنان میں حزب اللہ اور دوسرے ''دہشت گرد'' گروپوں کو خطرناک ہتھیاروں کی منتقلی کو روکنا ہے''۔

اسرائیل شام میں مارچ 2011ء سے جاری خانہ جنگی پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے۔وہ اس خانہ جنگی میں شامی صدر بشارالاسد اور ان کے مخالفین میں سے کسی کا ساتھ نہیں دے رہا ہے لیکن اسرائیلی قائدین متعدد مرتبہ یہ دھمکی دے چکی ہیں کہ وہ شام سے خطرناک ہتھیاروں کو حزب اللہ کو منتقل ہونے کی اجازت نہیں دیں گے۔ان میں جدید ہتھیار اور گائیڈڈ میزائل شامل ہیں۔

اسرائیلی جنگی طیاروں نے جنوری میں شام میں روسی ساختہ جدید طیارہ شکن میزائلوں کی ایک شپمنٹ کو نشانہ بنایا تھا۔ان کے بارے میں یہ گمان کیا گیا تھا کہ وہ شام سے لبنان میں بھیجے جارہے تھے۔اس کے بعد مئی میں اسرائیل کے دوجنگی طیاروں نے دمشق کے نزدیک ایرانی ساختہ زمین سے زمین پر مار کرنے والے میزائلوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ان کے بارے میں بھی شبہ ظاہر کیا گیا تھا کہ وہ حزب اللہ کو بھیجے جارہے تھے۔تاہم اسرائیل نے اپنی پالیسی کے تحت ان حملوں کی تصدیق نہیں کی تھی۔

مئی میں دارالحکومت دمشق کے نزدیک شامی فوج کی ایک تنصیب پر حملے کے بعد صدر بشارالاسد نے کہا تھا کہ اگر اب اسرائیل نے ان کے علاقے پر حملہ کیا تو اس کا جواب دیا جائے گا۔تاہم انھوں نے ابھی تک اسرائیل کے تازہ حملے کے بارے میں کچھ ارشاد نہیں کیا ہے۔

واضح رہے کہ روسی ساختہ یخونٹ میزائل طاقتور جہاز شکن ہتھیار ہیں۔ان کو ساحل سمندر سے چلایا جاسکتا ہے اور ان کا دفاع بہت مشکل ہے۔یہ پانی کے نزدیک آواز سے بھی زیادہ تیز رفتار فاصلہ طے کرتا ہے جس کے نتیجے میں راڈار پر ان کا سراغ لگانا مشکل ہوجاتا ہے۔اسرائیل ان میزائلوں کو اپنی فوجی اور تجارتی تنصیبات کے لیے خطرناک خیال کرتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں