حزب اللہ کو دروز ناموں سے جعلی شامی شناختی کارڈز کا اجرا

دمشق کی دروز قبیلے کو اپنا ہمنوا بنانے میں ناکامی کے بعد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شامی حکومت لبنانی شیعہ ملیشیا کے ارکان کو دروز قبیلے میں رکھے جانے والے معروف ناموں پر مشتمل جعلی شامی شناختی کارڈ جاری کر رہی ہے۔ اس امر کا انکشاف حکومت مخالف جنگجو نے 'العربیہ' سے خصوصی بات کرتے ہوئے کیا۔

شامی اپوزیشن جنگجو نے اپنا نام مخفی شرط پر مزید بتایا حزب اللہ جنگجوٶں کو باغیوں کے زیر قبضہ شام کے جنوبی صوبے درعا میں مختلف محاذوں پر 'جعلی شناختی کارڈ' دیکر لڑنے کو بھیجا جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ دروز مشرق وسطی میں ایک اقلیتی قبیلہ ہے۔ اس کے پیروکاروں کی بڑی تعداد لبنان، شام، اسرائیل اور اردن میں رہائش پذیر ہے۔ مارچ سنہ دو ہزار گیارہ سے بشار الاسد کے خلاف جاری عوامی تحریک میں دروز برادری نے ملک کے دوسرے اقلیتی گروپوں کی طرح علوی شیعہ مسلک کے پیروکار شامی صدر کی مخالفت نہیں کی۔

ادھر اپوزیشن ذرائع نے بتایا کہ شامی حکومت السويداء کی سنی اکثریتی آبادی کو باغیوں کے خلاف لڑائی میں شامل کرانے میں ناکام رہی ہے۔ شامی علاقہ السويداء، اردن اور درعا کا سرحدی شہر ہے۔ دارلحکومت دمشق سے ایک سو کلومیٹر دور اس شہر کی اکثریتی آباد دروز مسلکی افراد پر مشتمل ہے۔

ذرائع کے مطابق السويداء شہر کو حزب اللہ اور بشار الاسد کی حامی فوج درعا میں داخل ہونے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ شامی رجیم نے لبنان سے تعلق رکھنے دروز جنگجوٶں کی بڑی تعداد کو درعا بھیجا ہے تاکہ وہاں موجود اپنی برادری کو بشار الاسد کی فوج کے شانہ بشانہ باغیوں کے خلاف لڑنے پر آمادہ کر سکیں۔

ذرائع کے بقول اہالیاں السويداء نے باغیوں کے خلاف ہتھیار نہیں اٹھائے کیونکہ ان کے مذہبی پیشواٶں نے انہیں خود کو تنازع سے دور رکھنے کی ہدایت کر رکھی تھی۔

لبنانی حزب اللہ نے علانیہ طور پر ہمسایہ ملک شام میں جاری تنازع میں مداخلت کی اور وہ کھلے بندوں باغیوں کے خلاف جاری شامی فوج کی لڑائی میں بشار الاسد کے ساتھ کھڑی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں