شامی باغیوں اور القاعدہ گروپ کے درمیان محاذ آرائی میں اضافہ

جیش الحر کے سرکردہ کمانڈر قتل کے بعد مزاحمتی جنگ نیا رُخ اختیار کر گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

شام میں صدر بشارالاسد کے خلاف برسرپیکار جنگجو گروپوں کے درمیان اب باہمی لڑائیوں کی اطلاعات منظرعام پر آنا شروع ہوگئی ہیں اور شام میں جڑِیں رکھنے والے جنگجوؤں اور القاعدہ سے وابستہ گروپوں کے درمیان لڑائی سے ایک نئی آویزش شروع ہو گئی ہے جس کا بالآخر فائدہ شامی صدر ہی کو پہنچے گا۔

شام کے باغی فوجیوں اور جنگجوؤں پر مشتمل جیش الحر اور القاعدہ سے وابستہ گروپوں کے درمیان لڑائی کو مغربی ذرائع ابلاغ بھی بڑھا چڑھا کر پیش کررہے ہیں اور وہ یہ نقطہ نظر پیش کرنے کی کوشش کررہے ہیں کہ شام میں القاعدہ مضبوط ہوچکی ہے اور وہ مغرب کے حمایت یافتہ جیش الحر کے خلاف محاذآراء ہوچکی ہے جبکہ القاعدہ نے شام کے شمال میں جیش الحر کے آزاد کرائے گئے علاقوں پر اپنا اثرورسوخ حاصل کر لیا ہے۔

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے جیش الحر کے میڈیا کوآرڈی نیٹر لوئی المقداد کے حوالے سے لکھا ہے کہ ''انھوں نے ایف ایس اے کے لیڈروں کے قتل کا منصوبہ بنایا ہے لیکن ہم ان کے ساتھ کوئی سائیڈ جنگ نہیں چاہتے ہیں لیکن اگر وہ ہمارے لوگوں کا خون بہائیں گے اور وہ یہ کام کررہے ہیں تو ہم بھی ان کے ساتھ جنگ لڑیں گے''۔

القاعدہ سے وابستہ عراقی تنظیم ریاست اسلامی کے جنگجوؤں نے جمعرات کو ساحلی شہر اللاذقیہ میں جیش الحر کے سرکردہ کمانڈر کمال الحمامی کو ایک اجلاس کے دوران قتل کردیا تھا۔ہفتے کے روز شمال مغربی صوبے ادلب میں جیش کے ہیڈکوارٹرز پر حملہ کیا گیا تھا۔

لوئی مقداد نے واشنگٹن پوسٹ کے ساتھ انٹرویو میں اس حملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے لیکن ایف ایس اے کے ایک عہدے دار نے امریکی اخبار سے انٹرویو میں اس حملے کی تصدیق کی ہے اور ریاست اسلامی کو اس حملے کا مورد الزام ٹھہرایا ہے۔انھوں نے کہا کہ ''صورت حال بد سے بدترین ہوتی جارہی ہے''۔

تاہم حلب میں ایف ایس اے کے کمانڈر کرنل عبدالجبار العقیدی نے باغیوں اور ریاست اسلامی کے جنگجوؤں کے درمیان بوستان الاقصر چیک پوائنٹ پر لڑائی کی اطلاعات کی تردید کی ہے۔حزب اختلاف کے حلب میں قائم میڈیا مرکز نے بھی ایک بیان جاری کیا ہے جس میں ریاست اسلامی عراق اور جیش الحر کے درمیان لڑائی کی تردید کی گئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں