مصر: اخوان کے اعلیٰ عہدے داروں کے اثاثے منجمد

امریکا کے خصوصی ایلچی کا منتخب صدر کی برطرفی کے بعد دورۂ مصر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

مصر کے پبلک پراسیکیوٹر نے اخوان المسلمون اور دیگر اسلامی جماعتوں کے چودہ اعلیٰ عہدے داروں کے اثاثے منجمد کر دیے ہیں جبکہ امریکا نے منتخب صدر محمد مرسی کی برطرفی کے بعد اپنے اعلیٰ سفارتی نمائندے کو صورت حال کے جائزے کے لیے مصر بھیجا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ نے اتوار کو ایک بیان میں انڈر سیکرٹری آف اسٹیٹ بل برنز کے دورۂ مصر کی اطلاع دی ہے اور بتایا ہے کہ اس سے مصری عوام کے لیے امریکا کی حمایت کی عکاسی ہوتی ہے۔وہ ایسے وقت میں مصر کا دورہ کررہے ہیں جب برطرف صدر محمد مرسی کی سابقہ جماعت اخوان المسلمون کے لیڈروں کی پکڑ دھکڑ جاری ہے یا وہ گرفتاری سے بچنے کے لیے روپوش ہورہے ہیں۔

مصرکے پراسیکیوٹر ہشام برکات نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ اخوان اور دوسرے اسلامی لیڈروں کے خلاف جاری تحقیقات کے پیش نظر ان کے اثاثے منجمد کیے گئے ہیں۔عدالتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اخوان کے مرشدعام محمد بدیع سمیت نو عہدے داروں کے اثاثے منجمد کیے گئے ہیں۔ان کے علاوہ الجماعۃ الاسلامیہ کے سمیت اسلامی جماعتوں کے پانچ اور لیڈروں کے اثاثے منجمد کردیے گئے ہیں۔

پراسیکیوٹر نے یہ اقدام تین جولائی کو ڈاکٹر محمد مرسی کی برطرفی کے بعد پیش آئے تشدد کے واقعات کی تحقیقات کے پیش نظر کیا ہے۔ان میں گذشتہ سوموار کو فوجی ہیڈکوارٹرز کے باہر تشدد کا بدترین واقعہ بھی شامل ہے۔اس واقعے میں اخوان کے چوّن کارکنان سادہ کپڑوں میں ملبوس افراد کی فاَئرنگ سے ہلاک ہو گئَے تھے۔مصری فوج پر پرامن مظاہرین پر فائرنگ کا الزام عاید کیا گیا ہے۔

درایں اثناء امریکا اور جرمنی نے اخوان المسلمون کے خلاف انتقامی کارروائیوں کی مذمت کی ہے اور برطرف صدر محمد مرسی سمیت اخوان کے گرفتار کیے کارکنان کو رہا کرنے کا مطالبہ کیا ہے لیکن مصر کی مسلح افواج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح السیسی نے انھیں رہا کرنے سے انکار کردیا ہے اور کہا ہے کہ انھیں ان کے تحفظ کے پیش نظر ایک محفوظ جگہ پر زیرحراست رکھا جارہا ہے۔

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے آٹھ جولائی کو قاہرہ میں فوجی ہیڈکوارٹرز کے باہر پیش آئے تشدد کے واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔اس نے کہا ہے کہ عینی شاہدین کے بیانات کے مطابق فوج نے غیر مسلح مظاہرین کو اپنی گولیوں کو نشانہ بنایا تھا۔

امریکی خارجہ کے بیان کے مطابق انڈر سیکرٹری بل برنز قاہرہ میں عبوری حکومت کے عہدے داروں ،سول سوسائٹی کے نمائندوں سے ملاقاتیں کریں گے اور وہ ان سے تبادلہ خیال میں ہرقسم کا تشدد ختم کرنے کا مطالبہ کریں گے۔

ادھر برسلز میں یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کیتھرین آشٹن نے کہا ہے کہ تنظیم مصر میں ہونے والی پیش رفت پر نظر رکھے ہوئَے ہے اور اسے مصر کی صورت حال پر گہری تشویش لاحق ہے۔انھوں نے منتخب صدر مرسی کی برطرفی کے بعد سے پیش آئے تشدد کے واقعات پر افسوس کا اظہار کیا اور ملک میں جلد سے جلد نئے انتخابات کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں