مرسی کو دو مرتبہ ریفرینڈم کے لیے کہا تھا: مصری آرمی چیف

منتخب صدر نے عوامی رائے جاننے سے متعلق ریفرینڈم کو مسترد کر دیا تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

مصر کی مسلح افواج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح السیسی نے کہا ہے کہ ''ملک کی فوجی قیادت نے برطرف صدر محمد مرسی سے دومرتبہ کہا تھا کہ وہ اپنے برسراقتدار رہنے کے جواز اور سیاسی افراتفری سے بچنے کے لیے ریفرینڈم کا انعقاد کرائیں''۔

مصری ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق جنرل السیسی نے اتوار کو فوجی افسروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ''مسلح افواج نے سیاست دانوں کو ایک دوسرے کے ساتھ مفاہمت کے لیے موقع فراہم کیا تھا کہ وہ ایک دوسرے کو سمجھیں اور ملک میں سیاسی افراتفری بچیں''۔

جنرل السیسی نے کہا کہ انھوں نے برطرف صدر محمد مرسی سے اس سال کے دوران دو مرتبہ درخواست کی تھی کہ وہ ریفرینڈم کا انعقاد کرائیں لیکن انھوں نے اس تجویز کو مسترد کردیا تھا۔انھوں نے کہا:''میں نے مرسی کو مخلصانہ مشورہ دینے میں کسی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کیا تھا''۔

ان کا کہنا تھا کہ ''آرمی کی قیادت نے اپنی اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ ایوان صدر خود ہی مصری عوام کی رائے جاننے کے لیے ریفرینڈم کا انعقاد کرادے''۔آرمی چیف کے بہ قول برطرف صدر مرسی سے یہ کہا گیا تھا کہ وہ ریفرینڈم میں عوام سے یہ سوال پوچھیں کہ انھیں اقتدار میں رہنا چاہیے یا نہیں۔

مصر کے آرمی چیف اوروزیردفاع جنرل عبدالفتاح السیسی نے جمہوری طور پر منتخب پہلے صدر محمد مرسی کی حکومت کا تختہ الٹنے سے قبل انھیں بحران کے حل کے لیے اڑتالیس گھنٹے کا الٹی میٹم دیا تھا لیکن تب صدر مرسی نے ان کا یہ الٹی میٹم مسترد کردیا تھا اور اس کے بعد تین جولائی کو آرمی چیف نے ان کی حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا۔اب ان کے ہزاروں حامی قاہرہ میں جامع مسجد رابعہ العدویہ کے باہر ان کی بحالی کے لیے اور فوجی اقدام کے خلاف احتجاجی مظاہرے کررہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں