"اسرائیل، امریکا سے پہلے ایران کے خلاف فوجی اقدام کر سکتا ہے"

حزب اللہ تک خطرناک ہتھیار نہیں پہنچنے دیں گے: نیتن یاہو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے خبردار کیا ہے کہ ان کا ملک امریکا سے پہلے ایران کے ایٹمی پروگرام ختم کرنے کے لئے فوجی کارروائی کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے نئے منتخب صدر حسن روحانی 'بھیڑ کی کھال میں بھیڑیا ہیں'۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے امریکی ٹی وی "سی بی ایس" کو انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔ بہ قول نیتن یاہو 'ہم ایران سے زیادہ قریب اور زیادہ خطرے میں ہیں، اس لئے ایران کا سامنا کرنے کے لئے ہمیں شاید امریکا سے پہلے ہی تیاری رکھنا ہو گی۔'

انہوں نے نئے ایرانی صدر پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ "حسن روحانی مسکراہٹ بکھیر کر ایٹم بم بنایا چاہتے ہیں۔ ان کی حکمت عملی یہ ہے کہ بھیڑ کی کھال میں بھیڑیئے بن کر رہو۔'

انہوں نے ایرانیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ لوگ ممنوعہ حد پار کرنے جا رہے ہیں۔ ان کا اشارہ سنہ 2012ء میں اپنے یو این اسمبلی میں خطاب کی جانب تھا کہ جس میں انہوں نے ایران کا پہلا ایٹمی ہتھیار بنانے سے متعلق صلاحیت کا حوالہ دیا تھا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ تل ابیب، امریکا سے پہلے ایرانی نیوکلیئر پروگرام کو نشانہ بنا سکتا ہے۔

نیتن یاہو کے بقول: "ایرانیوں پر کسی لگی لپٹی کے بغیر یہ بات واضح کر دی جائے کہ انہیں ایسا کرنے کی اجازت ہر گز نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ایران کے اس وقت 190 کلوگرام بیس فیصد افزودہ یورنیم موجود ہے جبکہ ایٹم بم بنانے کے لئے 250 کلوگرام یورنیم درکار ہوتا ہے۔


ایک سوال کے جواب میں اسرائیل کے انتہا پسند وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے ایک مرتبہ پھر دھمکی دی ہے کہ وہ لبنانی تنظیم حزب اللہ تک خطرناک ہتھیار پہنچنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

نیتن یاہو کے اس بیان سے قبل اسرائیلی فوج کے شام کے ساحلی شہر اللاذقیہ میں روسی ساختہ جدید جہاز شکن میزائلوں پر حملے کی اطلاع سامنے آئی ہے۔ اسرائیلی حکام نے اس سے پہلے خبردار کیا تھا کہ وہ شام کے پاس جدید ہتھیار پہنچنے نہیں دیں گے۔اسرائیلی فوج کا اس سال کے دوران شام میں مبینہ جدید ہتھیاروں پر یہ چوتھا حملہ کیا ہے۔

سی بی ایس کے ٹی وی شو ''فیس دا نیشن'' میں جب صہیونی وزیر اعظم سے اسرائیلی فوج کے شامی شہر پرروسی ساختہ یخونٹ میزائلوں پر فضائی حملے کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے نہ تو اس کی تصدیق کی ہے اور نہ اس سے انکار کیا ہے۔

سی بی ایس کی جانب سے اس انٹرویو کے فراہم کردہ مسودے کے مطابق صہیونی وزیراعظم نے کہا کہ ''میری پالیسی لبنان میں حزب اللہ اور دوسرے ''دہشت گرد'' گروپوں کو خطرناک ہتھیاروں کی منتقلی کو روکنا ہے''۔

اسرائیل شام میں مارچ 2011ء سے جاری خانہ جنگی پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے۔ وہ اس خانہ جنگی میں شامی صدر بشارالاسد اور ان کے مخالفین میں سے کسی کا ساتھ نہیں دے رہا ہے لیکن اسرائیلی قائدین متعدد مرتبہ یہ دھمکی دے چکی ہیں کہ وہ شام سے خطرناک ہتھیاروں کو حزب اللہ کو منتقل ہونے کی اجازت نہیں دیں گے۔ان میں جدید ہتھیار اور گائیڈڈ میزائل شامل ہیں۔

اسرائیلی جنگی طیاروں نے جنوری میں شام میں روسی ساختہ جدید طیارہ شکن میزائلوں کی ایک شپمنٹ کو نشانہ بنایا تھا۔ان کے بارے میں یہ گمان کیا گیا تھا کہ وہ شام سے لبنان میں بھیجے جارہے تھے۔اس کے بعد مئی میں اسرائیل کے دوجنگی طیاروں نے دمشق کے نزدیک ایرانی ساختہ زمین سے زمین پر مار کرنے والے میزائلوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ان کے بارے میں بھی شبہ ظاہر کیا گیا تھا کہ وہ حزب اللہ کو بھیجے جارہے تھے۔تاہم اسرائیل نے اپنی پالیسی کے تحت ان حملوں کی تصدیق نہیں کی تھی۔

مئی میں دارالحکومت دمشق کے نزدیک شامی فوج کی ایک تنصیب پر حملے کے بعد صدر بشارالاسد نے کہا تھا کہ اگر اب اسرائیل نے ان کے علاقے پر حملہ کیا تو اس کا جواب دیا جائے گا۔تاہم انھوں نے ابھی تک اسرائیل کے تازہ حملے کے بارے میں کچھ ارشاد نہیں کیا ہے۔

واضح رہے کہ روسی ساختہ یخونٹ میزائل طاقتور جہاز شکن ہتھیار ہیں۔ ان کو ساحل سمندر سے چلایا جا سکتا ہے اور ان کا دفاع بہت مشکل ہے۔ یہ پانی کے نزدیک آواز سے بھی زیادہ تیز رفتار فاصلہ طے کرتا ہے جس کے نتیجے میں راڈار پر ان کا سراغ لگانا مشکل ہوجاتا ہے۔اسرائیل ان میزائلوں کو اپنی فوجی اور تجارتی تنصیبات کے لیے خطرناک خیال کرتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں