عراق: پے درپے بم دھماکوں میں 31 افراد ہلاک، بیسیوں زخمی

جنوبی اور وسطی شہروں میں یکے بعد دیگرے متعدد کار بم دھماکے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عراق کے وسطی اور جنوبی شہروں میں پے درپے بم دھماکوں کے نتیجے میں اکتیس افراد ہلاک اور بیسیوں زخمی ہوگئے ہیں۔ ان ہلاکتوں کے بعد عراق میں جولائی میں تشدد کے واقعات میں مارے گئے افراد کی تعداد تین سو ستر سے بڑھ گئی ہے۔

عراق کے مختلف علاقوں میں گذشتہ چار روز سے مسلسل تشدد کے واقعات رونما ہو رہے ہیں اور ان میں چھبیس افراد اوسطاً روزانہ مارے گئے ہیں لیکن حیرت انگیز طور پر عراق کے سینئِر سیاست دان اور مذہبی قائدین نے ان واقعات پر کوئی لب کشائی نہیں کی ہے اور وہ بدستور خاموش چلے آ رہے ہیں۔

جنوبی شہر الکوت میں اتوار کی شام ایک بیکری کے نزدیک سب سے تباہ کن کار بم دھماکا ہوا جس میں نو افراد ہلاک اور بیالیس زخمی ہوگئے۔ جنوبی شہر کربلا میں ایک بازار میں ایک اور کار بم دھماکا ہوا۔ اس واقعے میں چار افراد ہلاک اور انیس زخمی ہو گئے۔

جنوبی شہروں ناصریہ اور بصرہ میں الگ الگ بم دھماکوں میں دس افراد ہلاک اور ساٹھ سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔ پانچ اور افراد عراق کے شمالی صوبے نینویٰ میں مارے گئے ہیں اور اس صوبے کے دارالحکومت موصل میں مسلح افراد نے ایک فوجی چیک پوائنٹ فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں دو فوجی مارے گئے ہیں۔

فوری طور پر کسی گروپ نے ان بم حملوں کی ذمے داری قبول نہیں کی ہے لیکن پے درپے بم دھماکے عراق میں القاعدہ سے وابستہ تنظیم کی کارستانی قرار دیے جاتے ہیں۔ماضی میں عراق میں القاعدہ کی مقامی تنظیم ریاست اسلامی پر سکیورٹی فورسز اور اہل تشیع پر حملوں کے الزامات عاید کیے جاتے رہے ہیں۔ واضح رہے کہ عراق میں اپریل کے بعد تشدد کے واقعات میں دو ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں