فلسطین میں ماہ صیام کے دوران بیوی کو طلاق دینے پر پابندی عائد

انتہائی ناگزیر حالت میں عدالت کی منظوری لازمی قرار دے دی گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

فلسطین کی سپریم جوڈیشل کونسل برائے شرعی امور نے رمضان المبارک کا تقدس قائم رکھنے کے لیے ماہ صیام میں بیوی کو طلاق دینے پر پابندی لگا دی ہے۔ عدالت نے قرار دیا ہے کہ کوئی بھی شخص ماہ صیام میں اپنی مرضی استعمال کرتے ہوئے بیوی کو طلاق نہیں دے سکے گا۔ طلاق ناگزیر ہونے کی صورت میں فریقین عدالت کے زیر انتظام محکمہ "خانگی امور و عائلی مشاورت" سے منظوری لازمی ہوگی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مقبوضہ مغربی کنارے میں چیف جسٹس کو جوابدہ مشاورت وخانگی اصلاح کے شعبے کے ڈائریکٹر سولافہ صوالحہ نے بتایا کہ عدالت نے طلاق پرپابندی کا فیصلہ ماہ صیام کے تقدس کو مد نظر رکھتے ہوئے کیا ہے، کیونکہ گذشتہ ماہ صیام میں فلسطین میں طلاق کے غیرمعمولی واقعات رجسٹرڈ کیے گئے تھے۔

مسٹر صوالحہ کا کہنا تھا کہ ماہ صیام میں طلاق کے واقعات کے کئی اسباب ہیں۔ خور و نوش کے عادی لوگوں کا کھانا پینا ترک کرنا، نشہ کے عادی اور اس نوعیت کے دیگر نفسیاتی مسائل کا شکار افراد بیگمات کو طلاق دینے میں عجلت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ عدالت نے اس رحجان پر قابو پانے کے لیے ماہ صیام میں طلاق پر پابندی کا فیصلہ کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں