اخوان پر مصر میں خون ریزی اور فوج کو تقسیم کرنے کی سازش کا الزام

ملک کی منظم جماعت کا امیج داغدارکرنے کے لیے سماجی میڈیا پر مذموم مہم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

سوشل میڈیا پر متحرک کارکنان ان دنوں اخوان المسلمون سے منسوب ایک دستاویز کی تشہیر کررہے ہیں جس میں مبینہ طور پر ملک کی سب سے منظم جماعت پر خونریزی اور مصری فوج کو تقسیم کرنے کی سازش کا الزام عاید کیا گیا ہے۔

اس مبینہ دستاویز میں کہا گیا ہے کہ ''دشمن پر فتح یابی کے لیے صبر وتحمل ،عقیدے اور عزم کی ضرورت ہے''۔اس کے ساتھ ہی ساتھ اس دستاویز میں مصری فوج پر پابندی لگانے،اسے تقسیم کرنے اور اس کا تشخص داغدار کرنے کی بھی بات کی گئی ہے۔

یہ مبینہ دستاویز منتخب صدر محمد مرسی کا مسلح افواج کے ہاتھوں تختہ الٹنے کے دو ہفتے کے بعد سامنے آئی ہے۔مصر میں اس نرم فوجی انقلاب کے بعد سے اخوان المسلمون کے کارکنان سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں اور وہ برطرف صدر کی بحالی کا مطالبہ کررہے ہیں۔

سماجی میڈیا کے خدائی خدمت گاروں نے اس مبینہ دستاویز سے ازخود ہی نتاَئج اخذ کرنے کی کوشش کی ہے اور ایک ایسی جماعت پر خونریزی کا الزام عاید کیا ہے جو تشدد میں یقین نہیں رکھتی ہے لیکن اس میں ''شہید''اور ''قربانیوں'' جیسے الفاظ سے یہ نتیجہ نکالا گیا کہ اخوان ملک میں خونریزی چاہتی ہے۔

اس دستاویز میں مصری انقلاب کے مقاصد کے اجتماعی شعور کی بحالی کی بات کی گئی ہے اور اتھارٹی کا غلط استعمال کرنے والوں کے خلاف جدوجہد پر زور دیا گیا ہے۔

اس میں اس سوال کا جواب دینے کی بھی کوشش کی گئی ہے کہ امریکیوں نے مصر کے وزیردفاع اور مسلح افواج کے سربراہ عبدالفتاح السیسی کی فوجی انقلاب کے لیے کیوں حمایت کی تھی۔دستاویز کے مطابق:''امریکی یہ سمجھتے ہیں کہ مرسی اور اخوان المسلمون ملک کو عدم استحکام سے دوچار کررہے ہیں لیکن اس سے امریکیوں نے ایک مرتبہ پھر اپنی تارِیخی حماقت کا ثبوت بہم پہنچایا ہے۔مصری فوج اپنی موجودہ صورت حال میں کبھی ملک کو استحکام فراہم نہیں کرسکتی ہے۔

مرسی کے خلاف عوامی احتجاجی تحریک کو منظم کرنے والے گروپ تمرد کے ایک رکن والہ نورالدین نے العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''یہ دستاویز ان باغیوں اور نوجوانوں کو نقصان پہنچانے کے سوا کچھ نہیں ،جنھوں نے اخوان المسلمون کی حکومت کا تختہ الٹا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ''اس طرح کے ''زہریلے''منظرنامے میں ناکامی ناگزیر تھی۔

لیکن سکیورٹی امور کے ماہر رفعت عبداللہ اس کو سرے سے دستاویز ہی نہیں سمجھتے ہیں۔انھوں نے العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سماجی روابط کی ویب سائٹس پر شائع ہونے والے اس طرح کے بیانات ہرگز بھی دستاویز نہیں کہلا سکتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ ''فیس بُک پر اس طرح کے بیانات شائع کرنے کا مقصد رائے عامہ کو گمراہ کرنا اور افواہوں اور خوف کو پھیلانا ہے''۔

مقبول خبریں اہم خبریں