مصر کے متحارب سیاسی دھڑے مذاکرات کریں: امریکی نائب وزیر خارجہ

تمرد تحریک اور سلفی جماعت کا امریکی ایلچی سے ملنے سے انکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکا کے نائب وزیرخارجہ ولیم برنز نے مصر کے متحارب سیاسی دھڑوں کے درمیان مذاکرات کی ضرورت پر زوردیا ہے اور کہا ہے کہ امریکا مصر کی داخلی سیاست میں غیر جانبدار ہے۔

ولیم برنز مصر کے جمہوری طور پر پہلے منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی برطرفی کے بعد قاہرہ آنے والے امریکا کے پہلے سینئیرعہدے دار ہیں۔انھوں نے کہا کہ اخوان المسلمون کی اعلٰی قیادت کو ملک میں مصالحت کا عمل شروع کرنے کے لیے رہا کیا جانا چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ ''اگر مصر کی بعض بڑی جماعتوں کے نمائندوں کو گرفتار کر لیا جائے گا یا انھیں سیاسی عمل سے ہی نکال باہر کیا جائے گا تو پھر ڈائیلاگ اور ان کی شرکت کیسے ممکن ہوگی''۔انھوں نے ڈاکٹر محمد مرسی کی برطرفی کی مخالفت کرنے والوں سے بھی کہا کہ وہ پرامن طور پر سیاسی عمل میں شرکت کریں۔

واضح رہے کہ مرسی مخالف مظاہرین امریکا پر اخوان المسلمون کی حمایت کرنے کا الزام عاید کرتے رہے ہیں اور امریکی میڈیا اور خاص طور پر سی این این کو بھی مرسی کی برطرفی کو فوجی انقلاب قرار دینے پر تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔

تاہم ولیم برنز کا کہنا تھا کہ ہم خاص شخصیات یا خاص جماعتوں کی طرف داری نہیں کرتے۔میں کوئی امریکی حل لے کر نہیں آیا اور نہ میں کسی شخص کو کوئی لیکچر دینے آیا ہوں۔ہم مصر پر اپنا ماڈل مسلط کرنے کی کوشش نہیں کریں گے۔

امریکی نائب وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ ''برطرف صدر محمد مرسی کے حامیوں اور مخالفین کے پرتشدد مظاہروں کے باوجود وہ یہ خیال نہیں کرتے کہ مصر بھی شام کی راہ پر چل نکلے گا''۔

ولیم برنز سوموار کو مصر کی مسلح افواج کے سربراہ اور وزیردفاع جنرل عبدالفتاح السیسی ،فوج کے مقرر کردہ عبوری صدر عدلی منصور اور عبوری وزیراعظم حازم الببلاوی سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کررہے تھے۔

قبل ازیں مصر کی دوسری بڑی اسلامی جماعت حزب النور کے لیڈروں اور تمرد تحریک نے قاہرہ کے دورے پر آئے ہوئے امریکا کے سینئیر عہدے دار سے ملنے سے انکار کردیا ہے۔

امریکی نائب وزیرخارجہ ولیم برنز سوموار کو قاہرہ پہنچے قبل ازیں امریکی محکمہ خارجہ کے ایک بیان کے مطابق وہ مصر میں ہر طرح کے تشدد کے خاتمے اور انتقال اقتدار کے حوالے سے فوجی اور سول قیادت سے بات چیت کرنے والے ہیں''۔

سلفیوں کی جماعت حزب النور کے ترجمان نادر بکر نے العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ '' ان کے لیڈروں کو امریکی عہدے دار سے ملاقات کی دعوت دی گئی تھی لیکن انھوں نے اس کو ٹھکرا دیا ہے۔تاہم انھوں نے اس کی کوئی وجہ بیان نہیں کی۔

ڈاکٹر محمد مرسی کے خلاف احتجاجی مہم چلانے والی تمرد تحریک کے ترجمان محمود بدر نے العربیہ سے گفتگو میں کہا کہ انھوں نے امریکا کی مصر کے داخلی امور میں مداخلت کے پیش نظر ولیم برنز سے ملاقات سے انکار کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں