اسد نواز ملیشیا نے مصالحتی ٹیم کے 6 ارکان کو قتل کر دیا

حمص میں شامی فوج اور باغیوں میں لڑائی کے بعد فرقہ وارانہ کشیدگی میں اضافہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

شامی صدر بشارالاسد کے وفادار جنگجوؤں نے وسطی صوبے حمص میں فرقہ وارانہ مصالحت کے لیے آنے والی ایک سرکاری ٹیم کے چھے ارکان کو قتل کر دیا ہے۔

مصالحت کاروں کا تعلق قومی مصالحتی کمیٹی سے تھا اور انھیں سوموار کو حمص کے گاؤں حجرالعبید میں قتل کیا گیا ہے۔ مذاکرات کار سنی اکثریتی قصبے الزارا اور علوی اکثریتی قصبے قمیرا کے مکینوں کے درمیان مصالحت کے لیے گئے تھے۔ان دونوں قصبوں کے مکینوں کے درمیان گذشتہ ہفتے جھڑپیں ہوئی تھیں جس کے بعد علاقے میں فرقہ وارانہ کشیدگی پائی جارہی ہے۔

صدر بشارالاسد خود علوی فرقے سے تعلق رکھتے ہیں اور علوی ان کی حمایت کررہے ہیں جبکہ اہل سنت سنی باغیوں کی حمایت کررہے ہیں۔علاقے کے ایک مکین کا کہنا ہے کہ ''علوی ملیشیا (شبیحہ) نے قریبی قصبے سے آنے والے سنی مصالحتی ٹیم کے ارکان پر حملہ کردیا۔انھیں ٹیم کے ارکان پر شُبہ تھا کہ وہ خفیہ طور پر باغیوں کے ساتھ مل کر کام کررہے تھے کیونکہ قمیرا پر گذشتہ ہفتے اچانک حملہ کیا گیا تھا اور اس میں متعدد فوجی مارے گئے تھے۔

بہت سے مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ ٹیم کے ارکان کو مقامی سرکاری حکام کی منظوری کے بعد دھوکے سے قتل کیا گیا ہے حالانکہ وہ سرکاری وفد کا حصہ تھے۔لندن میں قائم حزب اختلاف کی حامی شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے انٹرنیٹ پر ایک ویڈیو اپ لوڈ کی ہے جس میں مقتولین کی فائرنگ سے چھلنی لاشیں سیاہ تھیلوں میں رکھی ہوئی ہیں۔

واضح رہے کہ صدر بشارالاسد کی حکومت نے حال ہی میں ملک میں جاری خانہ جنگی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے فرقہ وارانہ چپقلش کے خاتمے کے لیے قومی مصالحتی کمیٹی تشکیل دی تھی لیکن یہ اب تک اپنی کوششوں میں کامیاب نہیں ہوسکی ہے۔

حمص اور دارالحکومت دمشق کے درمیان واقع دیہی علاقے میں باغیوں اور اسدنواز ملیشیا شبیحہ کے درمیان لڑائی کی وجہ سے سخت کشیدگی پائی جا رہی ہے۔ان دونوں کا دو مخالف فرقوں سے تعلق ہے اور اس بنا پر علاقے کی آبادی میں بھی تناؤ پیدا ہو چکا ہے جس کے پیش نظر مصالحتی کوششوں کے بارآور ہونے کے امکانات معدوم ہوتے جا رہے ہیں۔

وسطی مغربی صوبے حمص میں اہل سنت کی اکثریت آباد ہے اور وہ صدر بشارالاسد کے خلاف مسلح بغاوت کی حمایت کررہے ہیں جس کا خمیازہ انھیں گاہے گاہے شامی فوج کے فضائی حملوں کی صورت میں بھگتنا پڑتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں