.

ترک وزیراعظم شامی یونیورسٹی کی ڈاکٹریٹ کی ڈگری سے محروم

رجب طیب ایردوآن کی جانب سے شامی باغیوں کی حمایت پر جامعہ حلب کا فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کی جامعہ حلب نے ترک وزیراعظم رجب طیب ایردوآن کو دی گئی ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری سے محروم کردیا ہے اور اس کا جواز یہ پیش کیا ہے کہ وہ شامی باغیوں کی حمایت کررہے ہیں اور انھوں نے ترک مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کیا تھا۔

شام کی سرکاری خبررساں ایجنسی سانا کی اطلاع کی مطابق:''رجب طیب ایردوآن کو پی ایچ ڈی کی اعزازی ڈگری سے اس لیے محروم کیا گیا ہے کیونکہ انھوں نے شامی عوام کے خلاف ''سازشیں'' کیں اور ترکی میں مظاہرین کے خلاف بلا امتیاز تشدد کا استعمال کیا''۔

سانا نے جامعہ حلب کے ڈین خضر الأورفلي کا ایک بیان نقل کیا ہے جس میں انھوں نے کہا کہ ''رجب طیب ایردوآن سے پی ایچ ڈی کی اعزازی ڈگری واپس لینے کا فیصلہ ترک عوام کے ساتھ اظہار یک جہتی کے طور پر کیا گیا ہے جو اپنے وزیراعظم کی معاندانہ پالیسیوں کو مسترد کرتے ہیں''۔واضح رہے کہ جامعہ حلب نے 2009ء میں رجب طیب ایردوآن کو پی ایچ ڈی کی اعزازی ڈگری عطا کی تھی۔

شام اور ترکی کے درمیان صدر بشارالاسد کے خلاف مارچ 2011ء سے جاری عوامی احتجاجی تحریک کے بعد سے تعلقات کشیدہ چلے آرہے ہیں۔اس تحریک سے قبل دونوں کے درمیان قریبی دوستانہ تعلقات استوار تھے لیکن ترک قیادت نے شامی صدر کی جانب سے اپنے ہی عوام کے خلاف طاقت کے بے مہابا استعمال کی شدید مخالفت کی تھی جس کے بعد ان کے تعلقات کشیدہ ہوگئے تھے۔

شام میں عوامی مزاحمتی تحریک کے بعد رجب طیب ایردوآن شامی صدر کے سب سے بڑے ناقد کے طور پرسامنے آئے ہیں۔وہ شامی حزب اختلاف کی ہرطرح سے حمایت کررہے ہیں اور بشارالاسد کے مخالف سیاسی قائدین ترکی ہی میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔

لیکن اب ترک وزیراعظم کے خلاف بھی گذشتہ ماہ جون سے احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے اور مظاہرین ان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کررہے ہیں۔انسانی حقوق کی تنظیموں نے ترک پولیس پر مظاہرین کے خلاف طاقت کے غیر متناسب استعمال کا الزام عاید کیا تھا۔

شام کا سرکاری ٹیلی ویژن ایک طرف تو ترک سکیورٹی فورسز کی مظاہرین کے خلاف کارروائیوں کی فوٹیج بھی نشر کرتا رہا ہے لیکن شامی ٹی وی سمیت تمام سرکاری میڈیا صدر بشارالاسد کے خلاف گذشتہ سوادو سال سے جاری عوامی مزاحمتی تحریک کے وجود سے ہی انکاری ہے اور اس کے بجائے وہ غیر ملکی حمایت یافتہ دہشت گردوں پر تشدد کے الزامات عاید کرتا چلا آ رہا ہے۔