دیوار15 کلومیٹر طویل اور بیسیوں میٹرگہری ہوگی

مصر سے دراندازی روکنے کے لیے 'آبی دیوار' کا اسرائیلی منصوبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیل نے پڑوسی ملک مصرسے ملحقہ سمندری حدود میں "زیرسمندر" کنکریٹ کی ایک مضبوط دیوار کی تعمیر کے منصوبے پر کام شروع کیا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد صہیونی ریاست کو جزیرہ نماء سیناء کے جنگجوؤں کی ممکنہ دراندازی کو روکنا ہے۔

العربیہ کی ایک رپورٹ کے مطابق اسرائیلی حکام نے جزیرہ نما سیناء میں ظہور پذیر ہونے والی تازہ کشیدگی کے تناظرمیں 'آبی دیوار' کی تعمیرپر کام فیصلہ کیا ہے۔ منصوبے پر کام شروع کرنے سے قبل تل ابیب نے قاہرہ کی نگراں حکومت کوبھی اعتماد میں لیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق 'آبی دیوار' بحر احمرمیں مصری ساحلی شہر ایلات سے مقبوضہ فلسطین کے ساحلی علاقے 'طابا' تک تقریبا پندرہ کلومیٹر طویل اور بیسیوں میٹر گہری ہوگی۔

زیرسمندر یہ دیوار مصر۔ اسرائیل ساحلی سرحد کے درمیان سرحد پار سے ہونے والی دراندازی کی روک تھام کے لیے ایک آہنی دیوار ثابت ہوگی۔ دیوار کی تعمیر کے بعد اسرائیل میں آنے والے غیرملکی سیاحوں کو بھی ساحل پر تحفظ فراہم کیا جاسکے گا اور سیاح اطمینان سے ساحلی علاقوں میں گھوم پھرسکیں گے۔

رپورٹ کے مطابق صہیونی حکومت عرصہ دراز سے جنگجوؤں کی بحری دراندازی روکنے کے لیے مختلف اسکیموں پرغور کرر ہی تھی۔ گوکہ اسرائیل کی سلامتی کو سمندری راستے سے کسی چیلنج کا سامنا نہیں کرنا پڑا ہے تاہم صہیونی حکام کے لیے اسرائیل مخالف غوطہ خور جنگجوؤں کا خطرہ ہمیشہ بڑھا چڑھا کرپیش کیا جاتا رہا ہے۔ اسرائیلی سیکیورٹی فورسز کئی باراس خدشے کا برملا اظہار کرچکی ہیں کہ صہیونی ریاست کے دُشمن عناصر غوطہ خوری یا چھوٹی کشتیوں کی مدد سے بحر احمر کے راستے اسرائیل میں داخل ہوسکتے ہیں۔

حال ہی میں اسرائیلی سیکیورٹی اداروں نےایک اعلیٰ سطحی اجلاس کو بریفنگ میں بھی بتایا تھا کہ بحر احمرسے کوئی بھی ماہر غوطہ خور اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد کے ساتھ اسرائیل میں داخل ہوکر بڑے پیمانے پر تباہی مچا سکتا ہے۔

اسرائیلی سیکیورٹی ذرائع کاکہنا ہے کہ بحیرہ احمر میں کنکریٹ کی مضبوط دیوار کی تعمیرکا منصوبہ غوطہ خوروں کواسرائیل میں داخلے سے روک سکتا ہے مگرجزیرہ نما سیناء میں چُھپے جنگجوؤں کے راکٹ حملوں کا کوئی توڑ نہیں کیا جاسکا ہے۔ یہ راکٹ اب بھی اسرائیل کے سرپر لٹکتی تلوار ہیں۔

خیال رہے کہ مصری سرحد کےساتھ زیرسمندر کنکریٹ کی دیوار کا یہ منصوبہ ایک ایسے وقت میں شروع کیا جا رہا ہے جب اسرائیل مصرکی سرحد پرپہلے ہی ایک دوسری دیوار پربھی کام جاری رکھے ہوئے ہے۔ یہ دیوار مصرکےشمال میں ایلات شہرسے جنوب میں کرم ابو سالم گذرگاہ تک قریبا220 کلو میٹر طویل ہوگی۔ اس دیوار کا تقریبا 15 کلو میٹر حصہ مکمل کیا جاچکا ہے۔

سابق معزول صدر حسنی مبارک کے خلاف عوامی بغاوت کے بعد بری سرحد کے ساتھ دیوار فاصل پرکام تعطل کا شکار رہا ہے۔ حال ہی میں منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی فوج کے ہاتھوں جبری برطرفی کے بعد دیوار کی تعمیرکا کام دوبارہ شروع کیے جانے کی خبریں آ رہی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں