شامی باغی جرنیل اسلحہ نہ ملنے برطانوی وزیر اعظم پر برس پڑا

برطانیہ کا فوجی مشورے پر شامی باغیوں کو اسلحہ دینے کا ارادہ تبدیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شامی حزب اختلاف کے اہم کمانڈرجنرل سلیم ادریس برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون پر یہ الزام عائد کرتے ہوئےپھٹ پڑے کہ برطانوی وزیر اعظم شامی باغیوں کو اسلحہ دینے کے وعدے سے مکر گئے ہیں ۔ معروف برطانوی اخبار ٹیلی گراف کو دیے گئے انٹرویو میں جنرل سلیم کا کہنا تھا ''برطانیہ کا یہ اقدام ہم اہل شام کو حزب اللہ کی حمائت یافتہ بشارالاسد کے ہاتھوں مرنے کے لیے تنہا چھوڑنے کے مترادف ہے ،نیز اس سے القاعدہ کے لیے بھی شامی اپوزیشن پر حاوی ہونے کا راستہ ہموار ہو جائےگا۔''

شامی باغی جرنیل نے کہا''اہل مغرب نے ہمارے ساتھ محض وعدے کیے ،حقیقت یہ ہے کہ اب یہ وعدے ایک مذاق بن کر رہ گئے ہیں۔'' جنرل سلیم ادریس نے کہا انہیں موقع نہیں ملا کہ وہ ڈیوڈ کیمرون سے کہہ سکتا کہ انہوں نے شامیوں کو مرنے کے لیے اکیلے چھوڑ دیا ہے تو میں بھی اپنے اہل وطن کی طرف سے انہیں'' شکریہ ''کہہ دیتا،

باغی جرنیل کا کہنا تھا ''ہمارے مغربی دوست ہماری مدد کرنے کے لیے کس چیز کا انتظار کر رہے ہیں۔کیا صرف اس بات کا کہ پہلے ایرانی اور حزب اللہ والے سارے شام والوں کو قتل کر لیں؟ ''

واضح رہے برطانوی وزیر اعظم نے اپنی فوج کے مشورے پر شامی مجاہدین کو اسلحہ دینے کا منصوبہ روک دیا ہے۔برطانوی فوج وزیر اعظم کو شام میں جاری لڑائی کے بارے میں اپنی تازہ ترین بریفنگ میں موقف اختیار کیا تھا کہ یہ لڑائی ا ب بہت پھیل چکی ہے اس لیے جنگی طیاروں کے ذریعے ہی مداخلت اور بشارالاسد رجیم کو نشانہ بنانے کا کچھ فائدہ ہو سکتا ہے، لیکن برطانیہ پہلے سے یہ فیصلہ کیے ہوئے ہے کہ شام میں اس طرح کی مداخلت نہیں کرے گا اور صرف غیر مہلک سامان کی ترسیل ہی شامی باغیوں کو کرے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں