شام میں جاری خانہ جنگی میں ہر ماہ 5000 ہلاکتیں

یو این کے اعلیٰ عہدے داروں کا سلامتی کونسل سے شام میں سخت اقدام کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شام میں جاری خانہ جنگی میں ہرماہ قریباً پانچ ہزار افراد مارے جارہے ہیں اور اس خانہ جنگی کے نتیجے میں مہاجرین کا 1994ء میں افریقی ملک روانڈا میں نسل کشی کی طرح بدترین بحران پیدا ہوگیا ہے۔

یہ بات اقوام متحدہ کے اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل برائے انسانی حقوق آئیوان سیمنوویک نے منگل کو سلامتی کونسل کے شام کے بارے میں اجلاس میں کہی ہے۔انھوں نے کونسل کو بتایا کہ ''اب ہلاکتوں کی تعداد خوفناک حد تک بڑھ چکی ہے اور ہر ماہ اوسطاً پانچ ہزار ہلاکتوں کے اعدادوشمار تنازعے کی خوف ناک حدتک سنگین صورت حال کا مظہر ہیں''۔

اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے ہائی کمشنر انٹونیو گٹرس نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں بتایا کہ اب تک شام کے پڑوسی ممالک میں ان کے ادارے نے قریباً اٹھارہ لاکھ شامی مہاجرین کا اندراج کیا ہے اور ہر ماہ اوسطاً چھے ہزار افراد خانہ جنگی میں جانیں بچا کر دربدر ہورہے ہیں۔

گٹرس نے کہا کہ بیس سال قبل روانڈا میں نسل کشی کے نتیجے میں لوگوں کی بڑی تعداد نے اس طرح نقل مکانی کی تھی۔اب اس کے بعد شامیوں کی بڑی تعداد اپنا گھربار چھوڑ کر مہاجرت کی زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔انھوں نے کہا کہ شامی بحران اتنا طویل ہوتا جارہا ہے کہ اس کا کسی کو شائبہ بھی نہیں ہوگا اور اس کے ناقابل برداشت انسانی مضمرات ہوں گے۔

اقوام متحدہ کے انسانی امور کے سربراہ ولیری آموش نے اس موقع پر کہا کہ بین الاقوامی برادری کو شام میں خانہ جنگی سے متاثرہ افراد تک امداد بہم پہنچانے کے لیے سرحد پار کارروائیوں پر غور کرنا چاہیے۔

اقوام متحدہ کے ان اعلٰی عہدے داروں نے پندرہ رکن ممالک پر مشتمل سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شام میں جاری خانہ جنگی کے خاتمے کے لیے سخت اقدامات کرے جہاں عالمی ادارے کے فراہم کردہ اعدادوشمار کے مطابق ایک لاکھ سے زیادہ افراد مارے جاچکے ہیں۔ان میں اکثریت عام شہریوں کی ہے۔

تاہم اقوام متحدہ میں شامی سفیر بشار جعفری نے اپنے ملک میں گذشتہ سوا دوسال سے جاری تنازعے میں ہلاکتوں کے ان اعدادوشمار سے اتفاق نہیں کیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ یہ غیر پیشہ وارانہ طریقے سے فراہم کیے گئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں