مقام "غزوہ اُحد" کی زیارت میں حجاج و معتمرین میں مسابقت!

شہداء احد کے مزارات زائرین کی توجہ کا خصوصی مرکز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

مدینہ منورہ سے چند کلومیٹرکی مسافت پر واقع "جبل احد" اسلامی تاریخ کے ایسے یادگار مقامات میں سے ایک ہے جسے صدیوں سے مسلمان نسل درنسل یاد رکھتے، اس سے سبق سیکھتے اور اس کی زیارت کا شرف حاصل کرنے کی کوشش کرتے آئے ہیں۔

عمرہ اور حج کی ادائی کے لیے دنیا بھر سے حجاز مقدس پہنچنے والے فرزندان توحید روضہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پرحاضری کے بعد مقام احد پرجانا نہیں بھولتے۔ شائد یہی وجہ ہے کہ لاکھوں زائرین میں جبل احد میں آمد اوراس کے بارے میں معلومات کے حصول کے لیےایک مقابلے کی کیفیت ہوتی ہے۔

العربیہ ٹی وی نے"الحرمین الشریفین" سے متعلق خصوصی رپورٹوں کے سلسلے میں تازہ رپورٹ میں مقام احد کی زائرین کے ہاں اہمیت پر روشنی ڈالی ہے۔

دنیا بھر سے آنے والے زائرین جب احد کے مقام پر پہنچتے ہیں تو وہ اپنے سامنے ایک طرف وسیع و عریض میدان اور دوسری طرف نشیب وفراز پر مشتمل ایک بے آب وگیاہ پہاڑی سلسلہ پاتے ہیں۔ اسی پہاڑی سلسلے میں "کوہ رماۃ" وہ مقام ہے جہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت کو نظر انداز کیے جانے کے نتیجے میں جنگ کا پانسہ پلٹ گیا اور مسلمانوں کو اس معرکے میں سخت جانی نقصان اٹھانا پڑا تھا۔

یہ مقام حجاج اور معتمرین کی توجہ کا خاص مرکز ہے۔ لوگ نہایت انہماک کے ساتھ آج سے چودہ سو سال پہلے لڑی گئی جنگ کی اپنے ذہن میں منظر کشی کی کوشش کرتے ہیں۔ جنگ میں شہید ہونے والے ستر صحابہ کرام کے مزارات بھی اسی پہاڑ کے دامن میں ہیں، جہاں عقیدت مندوں کا ایک ھجوم لگا رہتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق غزہ احد کے مقام پر حجاج اور معتمرین گروپوں کی شکل میں آتے ہیں۔ پہاڑ کی سیر آسان بنانے کے لیے حکومت نے پکی سیڑیاں بنا رکھی ہیں۔ ان کے علاوہ پہاڑ پر چڑھنے کے لیے مختلف اطراف میں کچے راستوں اور پگڈنڈیوں کو بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

جبل احد کی زیارت پرآئی ایک مصری معتمرہ نے اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہا کہ "جبل احد کے آس پاس کی زندگی میں بہت کچھ بدل گیا۔ کبھی لوگ یہاں پرگھوڑوں اور اونٹوں پر آیا کرتے تھے اور آج لکژری گاڑیوں پر پہنچتے ہیں، لیکن پہاڑ کی قدیم ہیبت اوراس کی شان و شوکت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

اس پہاڑ سے وابستہ مسلمانوں کی یادیں اب بھی پرانی ہیں۔ گو کہ ہم نے جنگ احد کو اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا لیکن یہاں آنے پرہمیں جنگ کے واقعات کی کیفیت محسوس ہو رہی ہے۔ شائد یہ اس مقام کی ابدی صفت ہے اور ہر زمانے کے لوگ اس پہاڑ پر لڑے جانے والے حق وباطل کے جنگی معرکے کوایسے ہی محسوس کرتے رہیں گے"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں