.

تین عشرے اسرائیلی جیلوں میں قید کاٹنے والا فلسطینی چل بسا

احمد جبارہ کو یاسرعرفات کی خصوصی اپیل پر رہائی ملی تھی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

زندگی کا پیشتر حصہ اسرائیل کی جیلوں میں گذارنے بزرگ فلسطینی اسیر احمد جبارہ ابو السکر حرکت قلب بند ہونے کے باعث انتقال کرگئے۔ ان کی عمر78 برس تھی۔

فلسطینی خبر رساں ایجنسی" معا" کے مطابق احمد ابو السکر اٹھائیس برس تک اسرائیلی جیلوں میں قید کاٹنے کے بعد سنہ 2003ء میں سابق فلسطینی لیڈر یاسرعرفات کی خصوصی اپیل پر رہا کئے گئے۔ طویل عرصہ صہیونی جیلوں میں اسیری کی وجہ سے انہیں "قائد اسیران" کے لقب سے بھی یاد کیا جاتا تھا۔

احمد ابو جبارہ سنہ 1936ء میں مقبوضہ فلسطین کے شہر'ترمسعیا' میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے پس ماندگان میں چھ بیٹے، بیٹیاں اور ایک بیوہ شامل ہیں جبکہ ان کی ایک اہلیہ کا پہلے انتقال ہو چکا تھا۔

ابوالسکراسرائیل کے خلاف لڑنے والے سینئر مجاہدین میں شامل تھے۔ ان پر 05 جولائی 1975ء کو اسرائیلی دارالحکومت تل ابیب کے صہیون گراؤنڈ میں کارروائی میں 13 یہودیوں کی ہلاکت کا الزام تھا۔ ان دھماکوں میں 78 یہودی زخمی ہوئے تھے۔ اسرائیلی حکومت نے صہیون گراؤنڈ کارروائی میں ابو السکر کو ماخوذ قرار دیتے ہوئے انہیں اشتہاری قرار دیا تھا۔ بعد ازاں اردن سے واپسی پرانہیں النبی برج عبور کرتے ہوئے حراست میں لے لیا گیا۔

حراست میں لیے جانے کے بعد پانچ ماہ تک ابو السکرکو بدترین جسمانی اور نفسیاتی تشدد کا نشانہ بنایا گیا، لیکن انہوں نے خود پر لگائے تمام الزامات مسترد کردیے۔ اس کے باوبود رام اللہ میں قائم اسرائیل کی ایک فوجی عدالت نے ابو السکر کوتیس سال قید کی سزاء کا حکم سنایا۔

صہیونی عدالت سے سزا پانے کے بعد السکرکو اسرائیل کی کئی بدنام زمانہ جیلوں میں رکھا گیا۔ ان کی رہائی کے لیے انسانی حقوق کی تنظیموں اور فلسطینی عوامی اور سیاسی حلقوں نے بھی کوششیں جاری رکھیں۔ تاہم صہیونی حکومت نےان کی صحت اور پیرانہ سالی کے باوجود رہا کرنے سے انکار کردیا تھا۔ اسیری کے دوران احمد جبارہ ابو السکر نے اسرائیلی جیلروں کے ظالمانہ رویے کے خلاف 13 مرتبہ بھوک ہڑتال بھی کیں۔ خیال رہے کہ اسرائیلی جیلوں میں پانچ ہزار سے زائد فلسطینی پابند سلاسل ہیں۔ ان میں درجنوں اسیران ربع صدی قید کاٹ چکے ہیں۔