عراق: سیاسی اتحاد پر صوبائی کونسل کے ووٹ خریدنے کا الزام

ووٹ کے بدلے 2 ملین ڈالر کی پیشکش، المتحدون خاموش، ابیرون کی تردید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عراق کے مغربی صوبہ انبار میں بڑے سیاسی اتحاد نے 20 جون کے انتخابات میں اکثریت حاصل کرنے میں ناکامی کے بعد مبینہ طور پر چھوٹی جماعتوں کے جیتے ہوئے ارکان کے ووٹ کروڑوں روپے دیکر خریدنا شروع کر دیے ہیں۔ اس مقصد کے لیے ایک رکن صوبائی کونسل کو دو ملین ڈالر تک کی پیش کش کی گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق صوبہ انبار جہاں انتخابات مکمل ہوئے ایک ماہ ہونے کو ہے، لیکن کسی بھی جماعت یا سیاسی اتحاد کو واضح اکثریت نہ مل سکنے کے باعث ابھی تک حکومت کی تشکیل نہیں ہو سکی۔ اس صورت حال میں صوبے کے بڑے سیاسی اتحاد جس میں ''المتحدون'' اور'' ابیرون'' نامی سیاسی جماعتیں شامل ہیں پر الزام ہے کہ منتخب صوبائی کونسل میں اپنی واضح اکثریت ثابت کرنے کے لیے ان دونوں جماعتوں نے بعض ایسی جماعتوں کے منتخب شدہ ارکان صوبائی کونسل کی حمایت خریدنے کے لیے روپیہ استعمال کرنے کی کوشش کی ہے۔

ایسے ہی ایک رکن صوبائی کونسل نے اپنا نام شائع نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اسے وفاداریاں بدلنے کے لیے دو ملین امریکی ڈالر کی پیش کش کی گئی ہے۔تاہم سیاسی اتحاد میں شامل سیاسی جماعت المتحدون اس بارے کوئی بھی رائے ظاہر کرنے سے معذرت کر لی جبکہ ابیرون کے سربراہ قاسم الفہداوی نے اس الزام کی تردید کرتے ہوئَےکہا ہے کہ ''پہلے ووٹ خریدنے کی کوشش کی نہ آئندہ کریں گے۔ ''

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں