.

مشرق وسطی امن مذاکرات کے دوبارہ آغاز کی جانب پیش رفت

امریکی وزیر خارجہ جان کیری مذاکرات دوبارہ شروع کرانے میں پرعزم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیر خارجہ خارجہ جان کیری سن ٫2010ء سے جمود کے شکار اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن مذاکرات بحال کرانے کی سرتوڑ کوشش کر رہے ہیں۔

ان مذاکرات کا سلسلہ غرب اُردن اور مقبوضہ مشرقی بیت المقدس میں یہودی بستیوں کی تعمیر کے تنازعے کے سبب ٹوٹ گیا تھا۔ کیری کے بہ قول میں اردن کے دارلحکومت عمان سے جمعہ کے روز اپنی واپسی سے پہلے ہر صورت ان مذاکرات کو دوبارہ شروع کرانا چاہتا ہوں۔

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نےعرب لیگ کے سینیئر رہنماؤں کے ساتھ ایک ملاقات میں مشرق وسطیٰ کے امن مذاکرات کو دوبارہ شروع کروانے کے لیے اپنی کوششوں اور شام اور مصر کے بحران کے بارے میں امریکا کے نقطہ نظر سے متعلق بریفنگ دی۔ کیری مشرق وسطیٰ کے دورے پر ہیں جہاں انہوں نے اُردن کے دارالحکومت عمان میں بدھ کے روز عرب لیگ کے ترجمانوں سے ملاقات کی۔

جان کیری کا امریکا کے وزیر خارجہ بننے کے بعد سے اب تک کا یہ مشرق وسطیٰ کا چھٹا دورہ ہے جس میں گزشتہ روز انہوں نے اُردن کے دارالحکومت عمان میں افطار اور عشائیے پر فلسطینی صدر محمود عباس کے ساتھ پانچ گھنٹوں پر محیط مذاکرات کیے۔ دونوں لیڈروں نے اسرائیلی اور فلسطینی امن، فلسطینی اقتصادی صورتحال اور مشرق وسطیٰ کے حالیہ انقلابات جیسے اہم موضوعات پر تبادلہ خیال کیا۔ جان کیری کی فلسطینی صدر کے ساتھ بات چیت کے موضوعات کے بارے میں اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے ایک سینیئر اہلکار نے بتایا ہے۔ تاہم انہوں نے تفصیلات نہیں بیان کیں کیونکہ جان کیری اپنی مشاورت کو خفیہ رکھنا چاہتے ہیں۔

جان کیری نے بدھ کے روز اُردن میں عرب لیگ کے ترجمانوں اور ان اراکین کے ساتھ بات چیت کی جو سعودی عرب کی طرف سے پیش کردہ ایک جامع عرب اسرائیل امن منصوبے کی حمایت کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے عرب لیڈروں کو شامی باغیوں کے لیے امریکی امداد سے متعلق تازہ ترین صورتحال سے بھی آگاہ کیا۔ جان کیری نے شام میں ایک عبوری حکومت کے قیام کے موضوع پر ایک انٹرنیشنل کانفرنس کے انعقاد کی کوششوں اور مصر کے سیاسی بحران کے بارے میں واشنگٹن کے موقف کے بارے میں بھی عرب لیڈروں کو تفصیلات سے آگاہ کیا۔

جان کیری کا مشرق وسطیٰ کا یہ دورہ ایک ایسے وقت میں عمل میں آیا ہے جب اسرائیل اور یورپی یونین کے تعلقات میں کشیدگی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ ستائیس رکنی یورپی بلاک نے فلسطینی مقبوضہ علاقوں میں یہودی بستیوں کی تعمیری پراجیکٹس کی فنڈنگ کے بارے میں نئی گائیڈ لائنز وضع کی ہیں۔ اُدھر اسرائیلی لیڈروں نے یورپی یونین کی طرف سے مقبوضہ علاقوں میں ترقیاتی کاموں میں شریک اسرائیلی اداروں کی فنڈنگ پر پابندی لگانے کے فیصلے کی مذمت کی ہے۔ اسرائیلی حکام نے کہا ہے کہ یورپی یونین کا یہ اقدام جان کیری کی مشرق وسطیٰ امن مذاکرات کی بحالی کی کوششوں کی راہ میں بڑی رکاوٹ ثابت ہو سکتا ہے۔