.

دوہری شہریت رکھنے والے عراق میں سرکاری عہدوں کے لئے نااہل قرار

کابینہ سے منظوری کے بعد ترمیمی بل پارلیمنٹ میں بحث کےلیے تیار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراقی وزیراعظم نوری المالکی کی مخلوط کابینہ نے طویل بحث و مباحثے کے بعد اعلیٰ حکومتی عہدوں کے لیے دوہری شہریت ترک کرنے کے ایک مسودہ قانون کی منظوری دی ہے۔ نئے آئینی بل کو منظوری کے لیے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں جلد ہی پیش کیے جانے کا امکان ہے، جہاں بل پرگرما گرم بحث کی توقع بھی کی جا رہی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق عراق کا آئین عام شہریوں کو دوہری شہریت رکھنے کا حق دیتا ہے۔ آئین کی اس سہولت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اب تک حکومتی عہدیدار، وزراء اور اراکین اسمبلی بھی دوہری شہریت سے مستفید ہوتے چلے آ رہے ہیں۔ نئے مسودہ قانون کی منظوری کے بعد حکومتی عہدہ یا دوسرے ملک کی شہریت میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔

وزیراعظم کے ترجمان علی الموسوی نے نئے مسودہ قانون کے بارے میں میڈیا کو بتایا کہ "دوہری شہریت کے بل کی کابینہ کی جانب سے منظوری دی جا چکی ہے لیکن اب اس پر فیصلہ پارلیمنٹ نے کرنا ہے"۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومتی عہدیداروں کے سامنے یہ آپشن کھلا رکھا جائے گا کہ آیا وہ اپنا عہدہ برقرار رکھنا چاہتے ہیں یا دوسرے ملک کی شہریت رکھنا چاہتے ہیں۔


اپوزیشن کا رد عمل

سیاسی طور پر شورش کا شکارعراق پہلی مرتبہ ایک اہم آئینی ترمیم کی طرف بڑھ رہا ہے۔ ماضی میں بھی کئی آئینی ترامیمی بل پارلیمنٹ کے دھڑوں کے درمیان اتفاق رائے پیدا نہ ہونے کے باعث ناکام یا تعطل کا شکار ہوئے ہیں۔ دوہری شہریت سے متعلق اس نئے ترمیمی کے بارے میں بھی اراکین پارلیمنٹ میں اختلافات دیکھے جا رہے ہیں۔

دولۃ القانون کے ٹکٹ پر رُکن اسمبلی منتخب ہونے والے عباس البیاتی نے نئے مسودہ قانون کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ "دوہری شہریت" کا معاملہ دراصل سابق مصلوب صدر صدام حسین کے دورمیں وضع کردہ قوانین کے خاتمے کی جانب پیش رفت ہے کیونکہ سابق نظام حکومت میں اپوزیشن رہ نماؤں کو دوسرے ملکوں میں ھجرت پرمجبورکیا جاتا رہا ہے۔

پارلیمنٹ میں شامل دھڑے"یونائیٹیڈ" کے رُکن اسمبلی اور انسانی حقوق کمیٹی کے چیئرمین سلیم الجبوری نے"العربیہ ڈاٹ نیٹ" سے بات کرتے ہوئے کہا کہ"پیش آئند انتخابات میں پارلیمنٹ کا دوہری شہریت کا وضع کردہ مسودہ قانون اہمیت کا حامل ہوگا۔ گوکہ رکن پارلیمنٹ کے لیے تو دوہری شہریت ترک کرنے کی شرط نہیں ہوگی البتہ حکومتی عہدہ سنبھالنے کے لیے دوہری شہریت ترک کرنا پڑے گی"۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا پارلیمنٹ میں بحث کے دوران بل کی کھل کر حمایت کی جائے گی یا اس کی مخالفت بھی ہوسکتی ہے تو الجبوری کا کہنا تھا کہ "میں نہیں سمجھتا کہ پارلیمنٹ کےدونوں ایوانوں میں نئے ترمیمی بل پر بہت زیادہ لے، دے ہوگی۔ اپوزیشن ارکان اپنا نقطہ نظر ضرور پیش کریں گے۔ ارکان میں ترمیمی بل کے حوالے سے ہلکا پھلکا اختلاف ہوسکتا ہے لیکن یہ اختلاف بھی قانون کی منظوری میں نہیں بلکہ اس کے نفاذ کے طریقہ کارمیں ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ عین ممکن ہے کہ سیاسی یا حکومتی عہدہ رکھنے کی مدت کے دوران دوہری شہریت کچھ عرصے کے لیے ترک کرنے کی تجویز منظور کی جائے، کیونکہ کئی ملکوں میں ایسا ہوتا ہے۔ حکومتی عہدہ رکھنے کی ایک یا دوسالہ یا زیادہ عرصہ کی مدت کے دوران دوہری شہریت کو منجمد کیا جاسکتا ہے۔

نئے مسودہ قانون سے متعلق عراقی ماہر قانون احمد العبادی نے"العربیہ ڈاٹ نیٹ" سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "آئین میں یہ بات واضح کردی گئی ہے کہ عامۃ الناس دوہری شہریت سے استفادہ کرسکتے ہیں لیکن اعلیٰ حکومتی عہدیداروں کے لیے دوہری شہریت ترک کرنا ہوگی۔ اس قانون کی موجودگی کے باوجود نئے قانون پربحث کی ضرورت نہیں رہی۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ سب سے پہلے اس قانون پرصدر اور وزیراعظم خود عمل کریں، بعد میں دوسرے عہدیداروں پراس کی پابندی کو لازمی قرار دیں"۔