.

شام: قلت خوراک اور دھماکوں کی بہتات، مزاح کی زد میں

لوگوں نے گولوں کے پھٹنے کو سحروافطار کا ذریعہ کہنا شروع کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تین برسوں پر پھیلی جنگ کے شکار شامی عوام نے جنگ زدہ رمضان کو مزاح اور لطائف سے سہل بنانے کی سبیل نکال لی تاکہ کھانے پینے کی اشیا میں قلت اور جنگی مصائب جھیلنے میں مدد مل سکے۔ گولے برساتی توپیں بھی اہل شام کے لیے لطیفوں کا موضوع بن گئی ہیں۔

صبح شام برسنے والے گولوں کے حوالے سے یہ لطیفہ زبان زد عام ہے کہ ''توپ کے گولے سحری اور افطار کے وقت کا اعلان کرنے کے لیے برستے ہیں کہ سحری کرنے اور افطار کرنے کی خبر ہر کسی کو ہو جائے۔ مگر خیال رہے کہ گولوں کی گھن گرج کا یہ مطلب نہیں کہ آپ اپنا روزہ توڑ لیں۔''

خبر ایجنسیوں کے مطابق وہ علاقے جن میں نسبتا امن ہے وہاں کے شہریوں کے لیے یہ ممکن ہو جاتا ہے کہ وہ اب بھی رات کے پچھلے پہر'' مساہراتی ''سن سکیں جو سحری کے لیے جگانے والے گلیوں میں روائتی طور پر مترنم لہجے میں گا رہے ہوتے ہیں۔

مگر وہ علاقے جو سنائپرز اور بمباری کی زد میں رہتے ہیں ان میں یہ اب ممکن نہیں رہا کہ وہ اس طرح کی روائتی چیزوں سے سحری کے وقت لطف اٹھا سکیں۔ لیک دلچسپ بات ہے کہ حمص جہاں اسدی افواج حملہ آور ہوتی ہیں اور باغیوں کو گرفتار کیا جاتا ہے وہاں بھی لوگوں میں ایک خاص قسم کی حس مزاح پیدا ہو گئی ہے۔اس نوعیت کے موبائل فون سے اس طرح کی ''بریکنگ نیوز''میسج کے ذریعے عام طور پر ایک دوسرے کو بھیجی جاتی ہیں '' سحری کے وقت جگانے کے لیے آنے والے ڈھولچی کے ڈھول کی آواز پر لوگ سحری کے لیے نہ جاگیں تو اس نے خود کو ہی دھماکے سے اڑا دیا۔"

جنگ زدہ اہل شام خوراک کی قلت کا اظہار عام طور پر یوں کرتے ہیں''رمضان میں روزہ رکھنا مشکل نہیں رہا البتہ افطار کرنا مشکل ہو جاتا ہے''