.

جان کیری کا اسرائیل - فلسطین امن مذاکرات بحالی کا منصوبہ ناکام

کیری کی جمعہ کو آمد سے قبل ہی پی ایل او نے منصوبہ رد کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیرخارجہ جان کیری کیلیے جمعۃالمبارک کی صبح اس وقت ایک بڑے دھچکے کا باعث بنی جب وہ اسرائیل اور فلسظینی قیادت کے درمیان تعطل کا شکارامن مذاکرات پھر سے شروع کرانے کے مشن پر رام اللہ روانہ ہونے والے تھے، لیکن فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس کی انتظامی انقلابی کونسل نے ان کے اس منصوبے کو مسترد کر دیا۔ فلسطین کی آزادی کے لیے وسیع تر پلیٹ فارم '' پی ایل او'' جو بائیں بازو کے گروپوں پر بھی مشتمل ہے پہلے ہی سمجھوتہ کرنے پر زیادہ مائل نہیں ہے۔

امریکی وزیر خارجہ نے صرف دوروز قبل اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اختلافات کی وسیع خلیج کو پاٹنے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ جبکہ امریکی صدر باراک اوباما نے محض ایک روز قبل اسرائیلی وزیراعظم کے ساتھ فون پر اس معاملے میں تفصیلی بات چیت کی تھی۔ لیکن جان کیری کے رام اللہ روانہ ہونے سے کچھ ہی دیر پہلے فلسطینی قیادت نے کیری تجاویز کو مسترد کر کے جان کیری کی امیدوں کا کم از کم وقتی طور پرنقصآن کر دیا ہے۔ فلسطینی انقلابی کونسل نے کیری تجاویز میں تبدیلی کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

واشنگٹن میں موجود ایک سینئیر امریکی افسر نے جمعہ کی صبح اس صورتحال کے بارے میں کہا'' یہ بڑی مناسب اور حوصلہ افزا بات ہے کہ ان معاملات پر سنجیدہ بحث ہو رہی ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ اس بارے میں پختہ خیالات پائے جاتے ہیں ،امریکہ آگے بڑھنے کی بنیاد کے لیے کوششوں کی تعریف کرتا ہے''۔

دوسری جانب فلسطینی رکن پارلیمنٹ مصطفی برغوثی کا کہنا ہے '' قائدین کے اجلاس کے دوران فلسطین کے اکثر طبقات نے اسرائیل کے ساتھ امن بات چیت کے نئے آغاز کی تجاویز کو رد کر دیا ہے''اس بارے میں'' پی ایل او'' کی مجلس عاملہ کے رکن واصل ابو یوسف نے کہا کہ ''فلسطینی قیادت نے جان کیری کی تجاویز کا جواب دینے کے لیے ایک کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔'' ان کا یہ بھی کہنا تھا ''جان کیری نے یہودی بستیوں کی تعمیر رکوانے کی کوئی ضمانت دی ہے اورنہ ہی امن مذاکرات کی بنیاد 1967 کی سرحدوں کو بنانے کی بات کی ہے۔''