.

عراق: مسجد میں خودکش بم دھماکا، 20 افراد جاں بحق

رمضان المبارک کے دوسرے جمعہ کو خطبہ کے دوران نمازیوں پر بم حملہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے وسطی صوبے دیالا میں ایک بمبار نے ایک مسجد میں نماز جمعہ کے دوران خود کو دھماکے سے اڑا دیا ہے جس کے نتیجے میں بیس افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔

پولیس حکام کے مطابق خودکش بم دھماکا دیالا کے قصبے وجیحہہ میں اہل سنت کی مسجد میں ہوا ہے اور اس وقت امام صاحب جمعہ کا خطبہ دے رہے تھے۔ فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوا ہے کہ یہ بم حملہ کس نے کیا ہے اور نہ کسی گروپ نے اس کی ذمے داری قبول کی ہے لیکن عراق میں خود کش حملوں کو القاعدہ کا ٹریڈ مارک قرار دیا جاتا رہا ہے۔ تاہم وہ اہل تشیع کو اپنے حملوں میں نشانہ بناتے رہے ہیں۔

واضح رہے کہ رواں سال کے آغاز کے بعد سے عراق کے مختلف شہروں میں تشدد کا سلسلہ جاری ہے اور فرقہ وارانہ بنیاد پر تشدد کے واقعات میں اہل تشیع اور اہل سنت دونوں سے تعلق رکھنے والے جنگجو ایک دوسرے کو نشانہ بناتے رہے ہیں۔

عراق میں تشدد سے ہلاک ہونے والوں کے اعداد وشمار جمع کرنے والے گروپ ''عراق باڈی کاؤنٹ'' کی اطلاع کے مطابق جولائی میں اب تک دہشت گردی کے حملوں میں چار سو ساٹھ سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

اقوام متحدہ کے فراہم کردہ اعداد وشمار کے مطابق عراق میں مئی میں بم دھماکوں اور تشدد کے دوسرے واقعات میں ایک ہزار سے زیادہ افراد مارے گئے تھے۔ سنہ 2006ء اور 2007ء کے بعد اب ایک مرتبہ پھر فرقہ وارانہ بنیاد پر تشدد کے واقعات میں ہلاکتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور گذشتہ چھے ماہ کے دوران ہر ماہ اوسطاً ڈھائی سو سے تین سو افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

واضح رہے کہ شام میں جاری خانہ جنگی کے بعد پڑوسی ملک عراق میں فرقہ وارانہ کشیدگی عروج پر ہے۔ عراق کے اہل سنت شامی صدر بشارالاسد کے خلاف محاذ آراء اپنے ہم مسلک باغیوں کی حمایت کر رہے ہیں جبکہ اہل تشیع شامی صدر کے حامی ہیں۔

عراق سے تعلق رکھنے والے سنی جنگجو شامی فوج کے خلاف باغی جنگجوؤں پر مشتمل جیش الحر کے ساتھ مل کر لڑ رہے ہیں۔ ان میں القاعدہ سے وابستہ ریاست اسلامی عراق کے جنگجو سب سے نمایاں ہیں اور انھوں نے شمالی شام میں حالیہ ہفتوں کے دوران دوسرے جہادیوں کے ساتھ مل کر کامیابیاں حاصل کی ہیں۔