.

اسرائیل مذاکرات کی بحالی کے لئے اسیران کی رہائی پر آمادہ

1967 سے پہلے کی فلسطینی سرحد کو بحال نہیں کرسکتے:اسرائیلی وزیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی وزیر برائے بین الاقوامی رابطہ و تزویراتی امور یوفال شتاینتز نے عندیہ دیا ہے کہ اسرائیل امن مذاکرات کی بحالی کے لئے متعدد اہم فلسطینی اسیران کو رہا کر سکتا ہے تاہم فلسطینیوں کے اس مطالبے"اسرائیل 1967 سے پہلے والی فلسطینی سرحد کو بحال کر دے" کو ماننا ممکن نہیں۔ اسرائیلی وزیر نے اس امر کا اظہار امریکہ کی جانب سے اسرائیل اور فلسطین کے درمیان براہ راست امن مذاکرات دوبارہ شروع کروانے کے اعلان کے ایک روز بعد کیا ہے۔

وزیر تزویراتی امور نے ایک سرکاری اسرائیلی ریڈیو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ،"اسرائیل فلسطینی اسیران کو رہا کرنے پر تیار ہے مگر ان کی تعداد زیادہ نہیں ہے اور نہ ہی فی الحال ان میں اسیران کی تعداد ظاہر کرنا چاہتا ہوں مگر ان میں کچھ بہت اہم اسیر ضرور شامل ہوں گے جو کہ کئی دہائیوں سے اسرائیلی جیلوں میں قید ہیں۔" اسرائیلی وزیر کا کہنا تھا کہ " فلسطینی اسیران کو ایک ہی بار نہیں بلکہ مختلف مراحل میں رہا کیا جائیگا۔"

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے جمعہ کے روز اعلان کیا تھا کہ ستمبر 2010 سے اسرائیل اور فلسطین کے درمیان معطل ہونے والے مذاکرات کی بحالی کے لئے پیشرفت ہوئی ہے۔ جان کیری کہنا تھا کہ،" مجھے خوشی ہے کہ ہم ایک ایسے معاہدے پر پہنچ گئے،جس کے نتیجے میں اسرائیل اور فلسطین کے درمیان حتمی مذاکرات کی بحالی کی بنیاد فراہم ہو جائے گی۔"

دوسری جانب فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ ان کی ریاست کے مستقبل پر ہونے والے مذاکرات کے لئے 1967 کی جنگ سے پہلے والی سرحدوں پر اسرائیل کا اتفاق کرنا ضروری ہے۔

اسرائیل نے اس مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ سرحدیں صیہونی ریاست کے لئے ناقابل دفاع ہوں گی۔ اسرائیلی وزیر شتاینتز نے کہا ہے کہ اس بات پر اسرائیل کوئی بھی رعایت نہیں دے گا اور نہ ہی مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں یہودی بستیوں کی تعمیر کو روکنے کے فلسطینی مطالبے پر عمل کرے گا۔