لبنان میں شامی عہدیدار کا قتل، رشتہ داروں سے تفتیش

بیوہ کا قاتلوں کو سخت سے سخت سزا دینے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

لبنانی سیکورٹی فورسز نے شامی عہدیدار محمد درار جامو کے قتل کے شبہے میں مقتول کی بیوہ کے دو رشتہ داروں کو حراست تفتیش شروع کر دی ہے۔

واضح رہے کہ محمد دررار جامو لبنان میں بشارالاسد کے مضبوط سہارے کے طور پر جانے جاتے تھے۔ انہیں نامعلوم حملہ آوروں نے رواں ہفتہ گھر کے باہر گولی مار ہلاک کر دیا تھا۔ ان کے قتل کو پہلے سیاسی رنگ دیا گیا تاہم بعد میں لبنانی فوج نے ان کے قتل کے سیاسی محرکات کو مسترد کر دیا تھا۔ عدالتی ذرائع نے بتایا کہ جامو کے قتل میں ان کے رشتہ داروں ملوث ہو سکتے ہیں۔

لبنانی فوج کے خفیہ دارے نے تفتیش کا دائرہ کار بڑھاتے ہوئے شک کی بناء پر مقتول کے برادر نسبتی بادی یونس اور بھتیجے علی خلیل سے تفتیش کی۔ لبنانی ذرائع ابلاغ کے مطابق محمد ررار جامو کا جنازہ اللاذقية میں ادا کیا گیا۔ شیحم جامو نے لبنانی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہ انہیں جان بوچھ کو اس واقعے میں گھسیٹا جا رہا ہے جبکہ یہ وقت ان کے لیے پہاڑ کی مانند ہے۔ شیحم نے مزید کہا کہ وہ کیسے اس شخص کو قتل کر سکتی ہے جس کے ساتھ زندگی کی بیس بہاریں گزاریں ہوں۔

انہوں نے کہا کہ لبنانی سیکورٹی فورسز نے انہیں اپنے خاوند کے جنازے میں شامل ہونے سے پہلے تفتیش کی اور بتایا کہ اگر اس قتل کے پیچھے رشتہ دار خاص طور پر اس کے بھائی یونس اور بھتیجے علی خلیل کے ہونے کا اندیشہ ہوا تو اس کے جواب میں شیحم نے کہا کہ اس کے پیچھے جو کوئی بھی اسے سخت سے سخت سزا دی جائے۔ شام کے خبررساں ادارے نے محمد درار جامو کے قتل کا الزام دہشت گرروں پر عائد کیا جو کہ دمشق میں باغیوں کے ساتھ بشار رجیم کے خلاف نبرد آزما ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں