.

حلب میں قتل عام کے بعد شہر میں اہل تشیع کو بسانے کا منصوبہ

شہرکی اہم کالونیوں پراسد نوازغیرملکی جنگجو قابض

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں صدر بشارالاسد کی خونی آمریت کےخلاف جاری عوامی بغاوت کے دو برسوں میں ملک کے بیشتر شہروں میں سرکاری فوج کے ہاتھوں اپنے ہی مسلک کے ہزاروں لوگوں کو نہایت بےدردی سے تہہ تیغ اور لاکھوں کو بے گھر کر دیا گیا ہے۔ ان خانما برباد شہروں میں حلب کا نام بھی سرفہرست ہے۔

"العربیہ ڈاٹ نیٹ" کو شامی حکومت کے ایک نئے منصوبے کا مسودہ ملا ہے جس سے مترشح ہوتا ہے کہ اسد رجیم حلب میں ہزاروں خاندانوں کے وحشیانہ قتل عام کے بعد شہر میں اہل تشیع کو آباد کرنے کا پروگرام بنا رہی ہے۔ اس منصوبے کے تحت پڑوسی ملکوں سے اسدی فوج کے ہمراہ باغیوں سے لڑنے والے جنگجوؤں اور ان کے خاندانوں کو حلب میں آباد کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لبنانی حزب اللہ، ایران اور عراق کے اسد نواز ہزاروں جنگجو خود کو حلب کی کالونیوں میں منظم کر رہے ہیں۔

خفیہ دستاویزمیں بتایا گیا ہے کہ پانچ سو ایرانی، حزب اللہ کے 1500 اورعراق کے سیکڑوں جنگجو نبل اور الزھراء کالونیوں میں جمع ہیں۔ مجموعی طورپر پران دونوں کالونیوں میں پانچ ہزار جنگجو باغیوں کی نمائندہ جیش الحرکے خلاف برسرجنگ ہیں۔ شہرکی الراشدین کالونی میں حزب اللہ عناصر کی تعداد 2000، عراق جنگجوؤں کی پانچ سو اور سرکاری فوج کے 2000 اہلکار باغیوں سے لڑائی میں مصروف ہیں۔

سفیرہ کالونی میں 2000 اسد نواز ایرانی اور حزب اللہ کے جنگجو کے علاوہ سرکاری فوج کے 5000 اہلکار موجود ہیں۔ یہ علاقہ فوجی سازو سامان کے کارخانوں کی وجہ سے شامی وزارت دفاع کے لیے نہایت اہمیت کا حامل سمجھا جاتا ہے۔ اسی کالونی میں سرکاری فوج نے مبینہ طورپر کیمیائی اسلحہ اور وسیع پیمانے پرتباہی پھیلانے والے ہتھیار ذخیرہ کر رکھے ہیں۔

عفرین کالونی میں سرکاری فوج کے علاوہ 1000 کرد جنگجو بھی شامی فوج کے ہمراہ لڑائی میں شریک ہیں۔ کرد جنگجوؤں کی اکثریت ترکی کے علاحدگی پسند گروپ "کرد لیبر پارٹی" کے حامیوں کی ہے، جو شام میں صدر بشارالاسد کی حکومت بچانے کے لیے اُنہیں طویل عرصے سے افرادی قوت اور اسلحے کی شکل میں دفاعی سامان مہیا کر رہے ہیں۔ ان کالونیوں میں سرکاری فوج کے ہمراہ باغیوں سے لڑنے والے شدت پسند گروپوں کے خاندانوں کو آباد کرنے پرغور کیا جا رہا ہے۔

اجتماعی قتل عام

صدر بشار الاسد کے خلاف جاری عوامی بغاوت کچلنے کے لیے سرکاری فوج اور ان کے حامی جنگجوؤں نے حلب کی اینٹ سے اینٹ بجا دی ہے۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ کو ملنے والی خفیہ دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ شامی فوج اپنے زیر انتظام شہروں میں بلا استثناء شہریوں کی نسل کشی کی مرتکب ہو رہی ہے۔ باغیوں کے مصدقہ ذرائع کا کہنا ہے کہ حلب میں پچھلی دو سالہ لڑائی میں سرکاری فوج نے مقامی آبادی کا تمام ریکارڈ تلف کردیا ہے۔ اب یہ معلوم کرنا مشکل ہے کہ آیا اس شہر کی کل آبادی کتنی تھی، ان میں کتنے جنگ میں مارے گئے اور کتنے شہرچھوڑ کر لبنان اور دوسرے پڑوسی ملکوں میں پناہ حاصل کرچکے ہیں۔

باغیوں کے جمع کردہ اعدادو شمارکے مطابق سرکاری فوجیں اپنے حامی جنگجوؤں کی مدد سے حلب میں کئی بار اجتماعی قتل عام جیسے گھناؤنے جرائم کی مرتکب ہوچکی ہیں۔ لُٹے پٹے شہریوں میں سے جو بچ نکلا اس نے شہر چھوڑنے میں ہی عافیت سمجھی ہے۔ اس وقت حلب کی بیشتر کالونیوں میں لوگوں کے مکانات یا تو تباہ ہوچکے ہیں یا ان کی املاک پرسرکاری فوجیوں کا قبضہ ہے۔ اہالیان حلب کے شہرچھوڑ جانے کے بعد دمشق حکومت نے ان کی املاک پر یمن، عراق، ایران، لبنان اور افغانستان سے آئے جنگجوؤں اور ان کے خاندانوں کو آباد کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔