.

شامی 'قطائف': اردن میں پناہ گزین شامیوں کا رمضان بھی میٹھا ہو گیا

پناہ گزین شامی حلوائیوں نے وطن سے دور وطن کی روائت کی مٹھاس زندہ رکھی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرض اور روائت کا ملاپ ہر کسی کے لیے تسکین، فرحت اور اپنے پن کا احساس لیے ہوتا ہے، لیکن جب کوئی صرف گھرسے بے گھر اور وطن سے دور ہی نہیں بلکہ جنگ و جبر کا شکار شہری اپنوں کی جدائی کے مندمل نہ ہونے والے زخموں کے سائے میں کہیں بے خانماں پڑا ہو تو خوشگوار یادوں کا ہلکا جھونکا بھی جاں فزا احساس لیے آتا ہے۔ لبنان میں جنگ و جبر کے شکار شامیوں کے لیے قائم کیمپوں میں شامی حلوائی اپنے پناہ گزین ہم وطنوں کے لیے یہی احساس اجنبی ماحول اور بے چارگی کے سائے میں آنے والے رمضان کے دوران روائتی شامی قطائف کی مٹھاس اور خوشگوار روائت کو جاری رکھ کے زندہ رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اردن کے سرحدی علاقے زعتری میں قائم شامی پناہ گزینوں کے کیمپ میں پناہ لیے ہوئے رمضان کی روائتی شامی سوغات تیار کرنے والے ایک حلوائی علی حریری کا کہنا ہے "وہ نہیں چاہتا کہ بے وطن ہو کر اردنی کیمپوں میں پڑے اس کے اہل وطن شام میں گزارے رمضان اللمبارک کے ماحول اور بہاروں کو بھول جائیں۔ اس لیے کیمپ میں پناہ لیے ہوئے تمام حلوائی اس کوشش میں ہیں پناہ گزینوں کا رمضان ویسا ہی گزرے جیسا شام میں گزرتا تھا۔ موجود حلوائیوں نے رمضان کے آغاز کے ساتھ ہی رمضان میں زیادہ پسند کی جانے والی روائتی شامی مٹھائیاں تیار کرنا شروع کر دی تھیں۔ ان میں قطائف سب سے اہم ۔

''اس سوال پر کہ یہ ''قطائف'' کیا ہے؟ حلوائی کا کہنا تھا ''یہ تہ دار قسم کے ''پین کیکس'' ہیں جن کی تہوں میں عام طور پر پشتہ یا باریک کٹے ہوئے ناریل کے ساتھ مکھن، کریم یا پنیر کا استعمال ہوتا ہے۔ توا نما 'فرائنگ پین' میں انڈے کی طرح فرائی کیا جاتا ہے، بعد ازاں اسے شہد یا شیرینی میں قدرے بگھو دیا جاتا ہے۔ رمضان المبارک میں اس کا استعمال اہل شام کی سالہا سال کی روائت بن چکی ہے اور اسی روائت کو ہم نے غریب الوطنی میں بھی جاری رکھا ہے تا کہ تلخیوں میں بجھی زندگی میں اہل شام کی یہ میٹھی رمضانی روائت نہ مر جائے۔''

شامیوں کے لیے قائم اس پناہ گزینوں کے کیمپ میں ایک اور روائت ساز حلوائی ابو ہیثم نے بتایا کہ رمضان کی یہ روائت اہل شام کے لیے جس قدر اہم ہے یہ اسی قدر مہنگی بھی ہے خصوصا اس کیمپ میں ایسے بہت سے ہیں جن کے لیے اس کی خریداری آسان نہیں ہوتی اور وہ قطائف میں شامل ہونے والے اجزا میں سے صرف کریم خرید سکتے ہیں۔ اس لیے ایسے شامی پناہ گزینوں کو قطائف مفت پیش کیا جاتا ہے ۔

''ابو ہیثم کا کہنا تھا وہ ہر روز ایک سو کلو قطائف تیار کرتا ہے اور اس میں سے بیس کلوغریب پناہ گزینوں میں مفت تقسیم کرتا ہے۔ اس کا کہنا تھا ''کہ میں یہ اس لیے کر رہا ہوں تا کہ اپنے اہل وطن اور اور ان کے خاندانوں کے لیے خوشی اور لذت کا سامان کر سکوں اور وہ وطن سے دور آنے وال رمضان میں بھی شادمانی کا احساس سمیٹ سکیں۔''