.

شامی کردوں نے الرقہ صوبے میں القاعدہ کا مقامی کمانڈر گرفتار کر لیا

تل ابیض میں القاعدہ اور کرد فرنٹ بریگیڈ کے درمیان جھڑپوں کا آغاز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

القاعدہ سے وابستہ اسلامی امارت عراق اور شام کے اہم کمانڈر کو ہفتے کے روز شامی کرد جنگجووں نے گرفتار کر لیا۔ شام کے بارے میں انسانی حقوق آبزرویٹری نے اپنے مراسلے میں بتایا ہے القاعدہ کمانڈر کی گرفتاری جنگ میں تیزی کے بعد عمل میں آئی۔

شامی صوبے الرقہ کے تل ابيض ریجن کے مختلف حصوں میں شامی کرد جنگجو، اسلامی امارت عراق اور متعدد دوسرے گروپوں کے خلاف نبرد آزما ہیں۔ مانیٹرنگ گروپ کے مطابق لڑائی کا سلسلہ شامی کرد جنگجووں کی جانب سے اسلامی امارت عراق اور شام کے مقامی امیر کی گرفتاری کے بعد شروع ہوا۔

یاد رہے کہ تل ابيض کا علاقہ شام کی ترکی سے ملنے والی سرحد پر واقع ہے۔

ہیومن رائٹس آبزرویٹری کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمان نے خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کو بتایا کہ گرفتار کا تخلص ابو مصعب ہے، تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ان کی شہریت شامی ہے یا پھر وہ کوئی غیر ملکی ہیں۔

حالیہ پیش رفت کرد عوام کو تحفظ فراہم کرنے والی کمیٹیوں کے حامی جنگجووں کی جانب سے القاعدہ نواز النصرہ محاذ اور اسلامی امارت عراق کی شامی صوبے الحسکہ کے اہم کرد اسٹرٹیجک قصبے راس العین سے بیدخلی کے بعد سامنے آئی ہے۔

آبزرویٹری کی جانب سے ہلاکتوں کے بارے میں جاری اعداد و شمار کی روشی میں ایک ہفتے کے دوران شمالی شام میں جاری جنگ میں کم سے کم پچاس جہادی اور کرد جنگجو مارے جا چکے ہیں۔ شامی آبادی کا پندرہ فیصد کردوں پر مشتمل ہے۔

انسانی حقوق آبزرویٹری کے لندن دفتر کے مطابق تل ابیض میں تصادم کا آغاز قصبے میں جہادیوں کے سکول پر حملے کے بعد ہوا، سکول کی عمارت کو علاقے کے کرد جنگجو اپنے ٹھکانے کے طور پر استعمال کر رہے تھے۔