.

شام میں خانہ جنگی سے اسلامی جنگجو فائدہ اٹھا سکتے ہیں: پینٹاگان

راسخ العقیدہ اسلامی جنگجو چھوٹے گروپوں پر کنٹرول حاصل کرسکتے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی محکمہ دفاع پینٹاگان کے انٹیلی جنس کے ایک اعلیٰ عہدے دار کا کہنا ہہے کہ شام میں صدر بشارالاسد کے خلاف برسرپیکار راسخ العقیدہ اسلامی جنگجوؤں کو آزاد ہی چھوڑ دیا گیا ہے اور وہ ملک میں مختلف بکھرے ہوئے جنگجو دھڑوں کا کنٹرول حاصل کرسکتے ہیں۔

امریکی دفاعی ایجنسی کے ڈپٹی ڈائریکٹر ڈیوڈ شیڈ نے کہا کہ ''سخت گیر عناصر کو ایسے ہی کس چیک کے بغیر چھوڑ دینے پر مجھے تشویش ہے کیونکہ وہ اپوزیشن گروپوں کے ایک بڑے حصے کا کنٹرول سنبھال سکتے ہیں''۔ انھوں نے اس بات کا اشارہ دیا ہے کہ شام میں کسی نہ کسی شکل میں مداخلت کی ضرورت ہے۔

مسٹر ڈیوڈ شیڈ نے شام میں صدر بشارالاسد کی فوج کے خلاف محاذ آراء النصرۃ محاذ اور القاعدہ کی عراقی شاخ سے درپیش خطرات پر تو تبصرہ کیا ہے لیکن انھوں نے امریکا یا اس کے اتحادیوں کی جانب سے شام میں کسی قسم کی مداخلت کی وکالت نہیں کی اور کہا ہے کہ اس کا فیصلہ کرنا پالیسی سازوں کا کام ہے۔

تاہم انھوں نے کہا کہ شام میں جاری تنازعہ کئی ماہ سے کئی سال تک چل سکتا ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے اور خانہ جنگی طول پکڑتی ہے تو شام کے بہت سے حصوں پر ان کے بہ قول ''ریڈیکل'' جنگجوؤں کا کنٹرول قائم ہوسکتا ہے۔

ڈیوڈ شیڈ کا کہنا تھا کہ '' یہ جنگجو اپنے گھروں کو نہیں جائیں گے بلکہ بشارالاسد تو ایک قلعہ نما علاقے تک محصور ہوکر رہ جائیں گے اور دوسرے حصے جنگجوؤں کے قبضے میں آجائیں گے۔ وہ اس جگہ کے لیے لڑیں گے اور وہ وہاں موجود رہیں گے''۔

واضح رہے کہ شام میں صدر بشارالاسد کے خلاف مارچ 2011ء سے جاری مسلح عوامی تحریک کے دوران اب تک ایک لاکھ سے زیادہ افراد مارے جاچکے ہیں۔ اس وقت شامی باغیوں اور جنگجوؤں پر مشتمل جیش الحر کے یونٹ ریاست اسلامی عراق اور دوسرے اسلامی جنگجو گروپوں کے ساتھ مل کر صدر بشارالاسد کی وفادار فوج کے خلاف مزاحمتی جنگ لڑ رہے ہیں۔

لیکن شام میں القاعدہ سے وابستہ گروپوں اور اعتدال پسند شامی جنگجو تنظیموں کے درمیان اختلافات پائے جا رہے ہیں۔ ماضی میں القاعدہ سے وابستہ گروپوں پر متعدد باغی جنگجوؤں کو قتل کرنے کے الزامات عاید کیے جاچکے ہیں۔