.

عراق کے مختلف علاقوں میں دھماکے، 65 افراد جاں بحق

دھماکے افطار کے بعد لوگوں کے گھروں سے نکلنے پر ہوئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراقی دارالحکومت بغداد سمیت مختلف علاقوں میں پے درپے بم دھماکوں کے نتیجے میں کم از کم 65 افراد جاں بحق ہو گئے۔ ان پرتشدد کارروائیوں کے نتیجے میں تقریبا دو سو افراد زخمی ہوئے ہیں۔ پولیس اور طبی ذرائع کے مطابق ہفتے کی شب دارالحکومت بغداد میں بارہ کار بم دھماکے ہوئے۔ ایک دھماکا سڑک کے کنارے نصب بم کے نتیجے میں ہوا جبکہ ایک بم جنوبی علاقے مدائن میں پھٹا۔

کرادہ میں ہونے والے دو کار بم دھماکے سب سے خطرناک تھے جن کے نتیجے میں 12 افراد جاں بحق ہوئے۔ ایسے ہی دو دھماکے ظفرانیہ کے علاقے میں ہوئے۔ دونوں دارالحکومت بغداد کے وسطی علاقے ہیں۔

عراق کے شمالی علاقوں سے بھی پرتشدد واقعات کی اطلاعات ہیں۔ موصل میں پولیس کی ایک گشتی پارٹی سڑک کے کنارے نصب بم کا نشانہ بنی۔ اس حملے میں ایک پولیس اہلکار جاں بحق ہو گیا۔ اسی شہر کے جنوب مشرقی ایک علاقے میں ایک کار بم کے نتیجے میں ایک خاتون جاں بحق اور 22 افراد زخمی ہو گئے جن میں سات پولیس اہلکار تھے۔ موصل کے ایک مغربی علاقے میں بھی بم دھماکا ہوا جہاں تین افراد زخمی ہوئے۔ گذشتہ روز ہونے والے ان تمام حملوں کے نتیجے میں 190 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ یہ کارروائیاں ہفتے کو اس وقت شروع ہوئیں جب لوگ افطار کے بعد خریداری کے لیے گھروں سے نکلے۔

خبر رسا‌ں ادارے اے ایف پی کے مطابق عراق میں 2008ء کے بعد یہ بدترین مہینہ ہے۔ رواں ماہ اب تک مختلف پرتشدد کارروائیوں کے نتیجے میں 520 سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ رواں ماہ 10 جون کو ہونے والی پرتشدد کارروائیوں میں 78 افراد جاں بحق ہوئے تھے جس کےبعد ہفتہ بدترین دِن رہا ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق رواں برس کے آغاز سے اب تک عراق میں دو ہزار سات سو سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ ایجنسی نے یہ اعداد وشمار سکیورٹی اور طبی ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات کے ذریعے مرتب کیے ہیں۔

متعدد اعلیٰ عہدے دار اور مذہبی رہنما ملک میں جاری بدامنی پر خاموش ہی رہتے ہیں۔ مئی میں وزیر اعظم نوری المالکی نے اعلیٰ سکیورٹی اہلکاروں کی پوزیشنوں میں رد و بدل کیا تھا لیکن ان کا یہ اقدام بد امنی پر قابو پانے میں ناکام رہا ہے۔

عراق میں شدت پسندوں کی جانب سے ایسے حملوں کا سلسلہ کافی عرصے سے جاری ہے۔ تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ رواں برس اس سلسلے میں اضافے کی وجہ سنی اقلیت میں پایا جانے والا عدم اطمینان ہے۔