.

فلسطینیوں سے امن مذاکرات اسرائیل کے لیے اہم ہیں: نیتن یاہو

ایران کی حمایت یافتہ دہشت گرد ریاست کا قیام نہیں چاہتے، جان کیری کے بیان پر ردعمل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

صہیونی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ فلسطینیوں کے ساتھ امن مذاکرات کی بحالی اسرائیل کے تزویراتی مفادات کے لیے بڑی اہمیت کی حامل ہے۔

انھوں نے ایک بیان میں کہا کہ ''یہ بات اپنے طور پر بڑی اہمیت کی حامل ہے کہ ہمارے اور فلسطینیوں کے درمیان تنازعے کا خاتمہ ہو اور یہ اس لیے بھی اہم ہے کہ ہمیں ایران اور شام سے بھی چیلنجز درپیش ہیں''۔

نیتن یاہو کا امریکی وزیرخارجہ جان کیری کے جمعہ کی شب جاری کردہ بیان پر یہ پہلا ردعمل ہے۔ جان کیری اسرائیل اور فلسطینی اتھارٹی کے درمیان امن مذاکرات کی بحالی کے لیے کوشاں ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اسرائیلی اور فلسطینی مذاکرات کاروں نے براہ راست امن بات چیت کی بحالی کے لیے راہ ہموار کرنے کی غرض سے ملاقات سے اتفاق کیا ہے۔

نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ ''ان مذاکرات کے ان کے نزدیک دو مقاصد ہونے چاہئیں۔ پہلا، ایسی دوقومی ریاست کے قیام کو روکنا، جس سے مستقبل کی صہیونی ریاست کے لیے خطرات پیدا ہوجائیں اور دوسرا، ہماری سرحدوں کے اندر ایران کی اسپانسرڈ دہشت گرد ریاست کے قیام کو روکنا ہے''۔

نیتن یاہو نے اس بیان میں اسرائیل کی سکیورٹی اور وسیع تر مفادات پر اصرار کیا ہے لیکن فلسطینیوں کو اسرائیل کی ریاستی دہشت گردی سے درپیش چیلنجز کے حوالے سے کچھ نہیں کہا۔

واضح رہے اور اسرائیل اور فلسطینی اتھارٹی کے درمیان 2010ء سے براہ راست مذاکرات منقطع ہیں۔ فلسطینی مقبوضہ علاقوں میں اسرائیل کی جانب سے یہودی آبادکاروں کے لیے بستیاں بسانے کی مخالفت کررہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اسرائیل کسی بھی سطح پر براہ راست مذاکرات سے قبل یہودی آباد کاروں کے لیے تعمیرات کو منجمد کرے۔

لیکن اسرائیل کی وزیر انصاف اور اعلیٰ مذاکرات کار زیپی لیفینی کا کہنا ہے کہ بات چیت کے لیے کوئی بھی پیشگی شرائط نہیں ہیں اور ہر چیز میز پر (موضوع بحث) ہوگی۔جان کیری نے اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان مذاکرات کی بحالی کے لیے طے پائے سمجھوتے کی تفصیل تو نہیں بتائی۔ البتہ اس کی دو شرائط سامنے آئی ہیں کہ ایک اسرائیل سے اوسلو معاہدے سے قبل جیلوں میں قید فلسطینیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا ہے اور دوسرا اسرائیل 1967ء سے قبل کی سرحدوں میں یہودی آبادکاروں کے لیے تعمیرات کو منجمد کردے گا۔
اسرائیل اس سے پہلے 1967ء کی جنگ سے قبل کی سرحدوں میں تنازعے کے دو ریاستی حل کی تجویز کو مسترد کرتا رہا ہے جبکہ فلسطینیوں کا یہ ایک اہم مطالبہ ہے۔

دوسری جانب غزہ کی پٹی کی حکمراں حماس نے اسرائیل سے مذاکرات کی بحالی کو مسترد کردیا ہے اور اس کا کہنا کہ صدر محمودعباس کو تمام فلسطینی عوام کی جانب سے مذاکرات کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔

بائیں بازو کی تنظیم پاپولر فرنٹ برائے آزادیٔ فلسطین نے بھی خبردار کیا ہے کہ ''اقوام متحدہ اور اس کی قرار دادوں کے فریم ورک سے باہر مذاکرات کی بحالی ایک سیاسی خودکشی ہوگی''۔

جان کیری نے اسرائیل اور فلسطینی اتھارٹی کے درمیان مذاکرات کی بحالی کے لیے مارچ کے بعد مشرق وسطیٰ کا چھٹا دورہ کیا ہے۔ وہ فلسطینی اتھارٹی پر تو یہ زور دے رہے ہیں کہ وہ اسرائیل کے ساتھ غیر مشروط طور پر بات چیت بحال کرے لیکن ان کا ملک اپنی آلہ کار صہیونی ریاست کو فلسطینی علاقے چھیننے کی روش سے باز رکھنے کو تیار نہیں۔