.

مصر: دستوری پینل کا آئین میں ترامیم کے جائزے کے لیے اجلاس

10 رکنی کمیٹی مرسی دور کے معطل آئین میں ترامیم تجویز کرے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے آئین میں ترامیم کے مجاز نئے دستوری پینل کا آج پارلیمان ہاؤس قاہرہ میں اجلاس ہو رہا ہے۔

مصر کی سرکاری مڈل ایسٹ نیوز ایجنسی (مینا) کی اطلاع کے مطابق دس قانونی ماہرین اور ججوں پر مشتمل بورڈ برطرف صدر محمد مرسی کے دور حکومت میں گذشتہ سال مرتب اور منظور کردہ آئین میں ترامیم تجاویز کرے گا۔

مصر کے عبوری صدر عدلی منصور نے ہفتے کے روز نئے دستوری پینل کی تشکیل کا اعلان کیا تھا اور یہ تیس روز کے اندر آئین میں ترامیم کی سفارش کرے گا۔ اس کے بعد پچاس ارکان پر مشتمل ایک اور کمیٹی ساٹھ روز میں آئین کا حتمی مسودہ تیار کرے گی اور پھر اس کو ریفرینڈم کے لیے عوام کے سامنے پیش کردیا جائے گا۔

مسلح افواج کے سربراہ جنرل عبدالفتاح السیسی نے ڈاکٹر محمد مرسی کو تین جولائی کو برطرف کرنے کے ساتھ ہی ان کے دورحکومت میں ریفرینڈم میں منظور کردہ آئین کو بھی معطل کردیا تھا۔

اس آئین کو گذشتہ سال اسلام پسندوں کی بالادستی والی کمیٹی نے مرتب کیا تھا لیکن مصر کے آزاد خیالوں اور مسیحیوں نے آئین کے مسودے کو مسترد کردیا تھا اور یہ موقف اختیار کیا تھا کہ آئین انسانی حقوق اور آزادیوں کے تحفظ میں ناکام رہا ہے۔

واضح رہے کہ دوسو چونتیس دفعات پر مشتمل معطل آئین میں ''شریعت کے اصولوں'' کو قانون سازی کے بنیادی مآخذ کے طور پر برقرار رکھا گیا تھا لیکن شریعت کو قانون سازی کا بنیادی مآخذ قرار دینے سے متعلق دفعہ راسخ العقیدہ سلفیوں اور دین بیزار آزاد خیالوں کے درمیان تنازعے کا موجب بن گئی تھی۔

معطل آئین میں صدر، پارلیمان کے اختیارات اور عدلیہ اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کے نئے سرے سے اختیارات کا تعین کیا گیا تھا لیکن اس کے مسودے کی عجلت میں تدوین اور پھر اس پر فوری ریفرینڈم پر سیاسی اور صحافتی حلقوں نے حکومت پر کڑی تنقید کی تھی۔