اسرائیل قریباً 80 فلسطینی قیدیوں کو رہا کر دے گا

تل ابیب، فلسطینی اتھارٹی سے امن مذاکرات کی بحالی سے قبل فیصلہ کرے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیل فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ براہ راست امن مذاکرات کی بحالی سے قبل طویل عرصے سے جیلوں میں بند قریباً اسی قیدیوں کی رہائی کے فیصلے پر غور کر رہا ہے۔

ایک اسرائیلی عہدے دار نے سوموار کو اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ''فریقین کے درمیان مذاکرات کے آغاز کے ساتھ ہی ان قیدیوں کو رہا کردیا جائے گا اور ہم انھیں مختلف مراحل میں رہا کرنے پر غور کررہے ہیں''۔۔

اس عہدے دار کے بہ قول :''قریباً اسی قیدیوں کی رہائی پر غور کیا جارہا ہے۔یہ تمام فلسطینی اوسلو معاہدے سے پہلے کے جیلوں میں بند ہیں''۔وہ 1993 ء میں فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیل کے درمیان اوسلو میں طے پائے امن معاہدے کا حوالہ دے رہے تھے۔اس کا یہ مطلب ہے کہ یہ تمام اسی فلسطینی قیدی گذشتہ دوعشروں سے زیادہ عرصے سے اسرائیلی جیلوں میں قید وبند کی صعوبتیں برداشت کررہے ہیں۔

اس عہدے دار نے یہ نہیں بتایا کہ فلسطینی قیدیوں کی رہائی کے فیصلے کو کب حتمی شکل دی جائے گی اور یہ کہ یہ فیصلہ صہیونی حکومت کرے گی ،وزراء یا صرف وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو فلسطینی قیدیوں کی رہائی کا حکم جاری کریں گے۔

اسرائیلی ریڈیو کی رپورٹ کے مطابق آیندہ ہفتے اسرائیلی اور فلسطینی مذاکرات کاروں کے درمیان تین سال کے بعد پہلی ملاقات سے قبل وزیراعظم نیتن یاہو آیندہ چند روز میں اس معاملے کو اپنی کابینہ کے رو برو پیش کریں گے۔

امریکی وزیرخارجہ جان کیری نے جمعہ کو اسرائیل اور فلسطینی اتھارٹی کے درمیان امن مذاکرات کی بحالی کے لیے ایک سمجھوتا طے پانے کی اطلاع دی تھی۔انھوں نے اس سمجھوتے کی تفصیل تو نہیں بتائی۔البتہ اس کی دو شرائط سامنے آئی ہیں۔پہلی، اسرائیل سے اوسلو معاہدے سے قبل جیلوں میں قید تمام فلسطینیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا ہے اوردوسری اسرائیل 1967ء سے قبل کی سرحدوں میں یہودی آبادکاروں کے لیے تعمیرات کو منجمد کردے گا۔

اسرائیلی عہدے داروں نے اس مجوزہ سمجھوتے کو اپنی کامیابی قرار دیا ہے کیونکہ اس میں فلسطینیوں کے دونوں بڑے پیشگی مطالبات کو تسلیم نہیں کیا گیا ہے۔وہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں یہودی آبادکاروں کے لیے تعمیرات کو منجمد کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں اور 1967ء کی جنگ سے ماقبل کی سرحدوں میں اپنی مجوزہ ریاست کا قیام چاہتے ہیں۔اسرائیل اس سے پہلے 1967ء کی جنگ سے قبل کی سرحدوں میں تنازعے کے دوریاستی حل کی تجویز کو مسترد کرتا رہا ہے۔

واضح رہے اور اسرائیل اور فلسطینی اتھارٹی کے درمیان 2010ء سے براہ راست مذاکرات منقطع ہیں۔فلسطینی مقبوضہ علاقوں میں اسرائیل کی جانب سے یہودی آبادکاروں کے لیے بستیاں بسانے کی مخالفت کررہے ہیں۔فلسطینی صدر محمود عباس متعدد مرتبہ مقبوضہ سرزمین پر یہودی آباد کاری کے عمل کو منجمد کرنے کا مطالبہ کرچکے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اسرائیل کسی بھی سطح پر براہ راست مذاکرات کی بحالی سے قبل یہودی آباد کاروں کے لیے تعمیرات کو منجمد کرے۔انھوں نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینیوں کو مذاکرات کی بحالی سے قبل رہا کیا جائے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں