امریکا تعلقات استوار کرنے کے لیے قابل اعتماد نہیں: خامنہ ای

امریکی قابل اعتبار ہیں اور نہ وہ اپنے معاملات میں دیانت دار ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے خبردار کیا ہے کہ ''واشنگٹن اتنا قابل اعتماد نہیں ہے کہ اسلامی جمہوریہ اس کے ساتھ سفارتی تعلقات استوار کرسکے''۔

آیت اللہ علی خامنہ ای کے اس بیان سے قبل بعض امریکی عہدے داروں اور ارکان کانگریس نے صدر براک اوباما سے مطالبہ کیا ہے کہ ایران کے نومنتخب صدر حسن روحانی کی آنے والی حکومت کے ساتھ سفارتی روابط کو بحال کیا جائے۔

ایران کے روحانی رہ نما نے اتوار کی شام افطاری کی تقریب کے موقع پر اعلیٰ عہدے داروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ''میں نے ایرانی سال کے آغاز کے موقع پر ہی کہہ دیا تھا کہ میں امریکا کے ساتھ مذاکرات کے بارے میں خوش اُمید نہیں ہوں۔یہ اور بات ہے کہ میں نے عراق سمیت بعض ایشوز کے بارے میں ان سے مذاکرات سے منع بھی نہیں کیا تھا''۔

انھوں نے کہا کہ ''امریکی قابل اعتماد ہیں اورنہ وہ اپنے معاملات میں دیانت دار ہیں۔گذشتہ مہینوں کے دوران امریکی عہدے داروں کے موقف سے بھی یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ کسی کو خوش اُمید نہیں ہونا چاہیے''۔

افطار کی تقریب میں نومنتخب صدر حسن روحانی اور سبکدوش ہونے والے صدر محمود احمدی نژاد بھی موجود تھے۔واضح رہے کہ امریکی صدر براک اوباما نے 2009ء کے اوائل میں اپنی پہلی مدت کے لیے عہدہ سنبھالنے کے بعد ایران کو مذاکرات کی پیش کش کی تھی لیکن گذشتہ برسوں کے دوران اس ضمن میں کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی ہے بلکہ امریکا نے ایران پر اس کے جوہری تنازعے کی وجہ سے پابندیوں میں اضافہ کیا ہے اور اس کی تیل کی برآمدات کم ہوکر رہ گئی ہیں۔

درایں اثناء ایران کے نومنتخب صدر حسن روحانی نے اپنے ملک کے جوہری پروگرام کے تنازعے پر پائی جانے والی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے تعمیری انداز میں بات چیت کے عمل کو آگے بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ''خارجہ پالیسی میں جدت کایہ مطلب نہیں کہ ہتھیار ڈال دیے جائیں یا محاذ آرائی کی جائے بلکہ اس کا مقصد دنیا کے ساتھ تعمیری اور موثر تعامل ہے''۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں