.

شامی فوج کی بمباری سے حضرت خالد بن ولید کا مزار اور مسجد شہید

حمص پر سرکاری فوج کے راکٹ اور مارٹر حملے چار ہفتوں سے جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کی سرکاری فوج نے باغیوں کے بیس کیمپ حمص میں وحشیانہ بمباری کرتے ہوئے جلیل القدر صحابی حضرت خالد بن ولید کا مزار اور اس سے ملحقہ تاریخی جامع مسجد شہید کردیے ہیں۔

حمص میں انسانی حقوق کے کارکنوں اور انسانی حقوق آبزرویٹری کے مطابق پیر کے روزاسد نواز فورسزنے حمص کی مرکزی کالونی الخالدیہ میں راکٹوں اور مارٹر گنوں سے حملے کیے جن کے نتیجے میں حضرت خالد بن ولید کا مزار اور مسجد مکمل طورپر ملبے کے ڈھیر میں تبدیل ہو گئے۔

خیال رہے کہ شام میں ایک ہفتے کے دوران کسی بزرگ ہستی کے مزار پر دوسرا بڑا حملہ ہے۔ چار روز پیشتر دمشق میں گولے گرنے سے حضرت سیدہ زینب کا مزار بھی شہید ہوگیا تھا۔ حکومت نے واقعے کی ذمہ داری باغیوں پرعائد کی تھی۔

انسانی حقوق کے کارکنوں کی فراہم کردہ اطلاعات کےمطابق باغیوں کے بیس کیمپ سمجھے جانے والےشہرحمص میں چوتھے ہفتے بھی بھاری ہتھیاروں سے گولہ باری جاری ہے اور شہرکا قبضہ حاصل کرنے کے لیے پوری طاقت کا استعمال کیا جا رہا ہے۔

انسانی حقوق آبزرویٹری کی جانب سے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی "اے ایف پی" کو بھیجی گئی ایک ای میل میں بتایا کہ سوموارکو علی الصباح اسد نواز فوجیوں نے حمص میں صحابی رسول حضرت خالد بن ولید کے مزار پر راکٹ اور مارٹر حملے کیے گئے جس سے مزار مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔ بمباری سے مزار سے ملحقہ جامع مسجد خالد بن ولید بھی شہید ہوگئی ہے۔ یہ مسجد عثمانی دور میں تعمیر کی گئی تھی.

ادھرباغیوں کی جانب سے تباہ ہونے والے مزارکی ایک ویڈیو بھی انٹرنیٹ پر لوڈ کی ہے، جس میں خلافت عثمانیہ کے دور میں بنائی گئی تاریخی جامع مسجد اور مزار کو ملبے کا ڈھیردکھایا گیا ہے۔ انقلابی کارکنوں نے سرکاری فوج کی اس جارحیت کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور بتایا ہے کہ اسد نواز فوجیں شہرپر قبضے کے لیے وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار استعمال کر رہی ہیں۔

ماہ صیام میں حمص پر آتش و آہن کی بارش

درایں اثناء انسانی حقوق کے ایک کارکن خضیر خشفہ نے"العربیہ" نیوز چینل کو بتایا کہ سرکاری فوج ہرآنے والے دن حمص پر پہلے سے زیادہ تباہ کن حملے کر رہی ہے تاکہ باغیوں کے اوسان خطا ہوں اور اسد نواز فوجیں شہرپر دوبارہ قبضہ حاصل کرسکیں۔ خضیر کا کہنا تھا کہ ماہ صیام کی حرمت کے باجود اسد نواز فوجی باغیوں کے ٹھکانوں پر ہاون راکٹوں اور مارٹرگنوں سے شیلنگ کر رہے ہیں۔ انہی تباہ کن حملوں میں حضرت خالد بن ولید کے مزار اور اس سے ملحقہ مسجد کوبھی نشانہ بنایا گیا۔

انسانی حقوق کے کارکن کا کہنا تھا کہ پچھلے چند ایام سے شہر کی مرکزی کالونی"الخالدیہ" سرکار فوج کا سب سے اہم ہدف ہے۔ کالونی میں کئی روز سے جاری بمباری میں سیکڑوں عمارتیں ملبے کا ڈھیر بنا دی گئی ہیں۔

صحابی رسول کے مزارکی تباہی کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں الخضیرکا کہنا تھا کہ سرکاری فوج نے مزار پر"ہاون" راکٹوں اور مارٹرگنوں سے گولہ باری کی، جس کے نتیجے میں مزارمکمل طورپر ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مزار کی دیواروں پرقرآنی آیات کندہ کی گئی تھیں۔ بمباری کے نتیجے میں قرآنی آیات پرمبنی اور دیواروں کے ٹکڑوے دور دور تک بکھرے پڑے ہیں۔