یورپی یونین کا حزب اللہ کے عسکری ونگ کوبلیک لسٹ کرنے کا فیصلہ

تنظیم کے ارکان کے اثاثے منجمد، ویزوں کے اجراء پر پابندی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

یورپی یونین کے ایک سفارتی ذریعے نے اطلاع دی ہے کہ یونین کے ممبر ممالک نے لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے ملٹری ونگ کودہشت گرد گروپوں کی فہرست میں شامل کرنے کا اصولی فیصلہ کرلیا ہے۔

یورپی یونین کے دارالحکومت برسلز میں العربیہ نیوزچینل کے نامہ نگار نور الدین الفریضی نے سفارتی ذرائع کے حوالے سےبتایا کہ حزب اللہ کے ملٹری ونگ پرپابندی عائد کیے جانے کے بعد تنظیم کے اہم رہ نماؤں کو ویزوں کے اجراء پرپابندی ہوگی۔ اس کے علاوہ تنظیم سے وابستہ افراد کے یورپی یونین کے بنکوں میں کھولے گئے بنک کھاتے بند، اثاثے منجمد اوران کے تمام ذرائع آمدن بند کردیے جائیں گے۔

نامہ نگار کا کہنا ہے کہ یورپی سفارتی ذرائع نےاس امرکی وضاحت نہیں کی کہ آیا یونین حزب اللہ کے ملٹری ونگ اور اس کے فلاحی ادارے سے وابستہ افراد کے درمیان کس طرح فرق کرے گی، کیونکہ جو لوگ حزب اللہ کی رفاہی تنظیم سے وابستہ ہیں، وہ ملٹری ونگ کوبھی سپورٹ کر سکتے ہیں۔

الفریضی نے بتایا کہ یورپی یونین نے حزب اللہ کے عسکری بازو پرپابندیوں کے نفاذ کے لیے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دینے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ یہ کمیٹی تنظیم کے عسکری بازو سے وابستہ افراد اور اداروں کی ایک فہرست مرتب کرے گی۔ بعد ازاں اس فہرست میں شامل اداروں اور افراد سے کسی قسم کا مالی تعاون ممنوع قرار دیا جائے گا۔ پابندیوں کی فہرست میں کچھ عرصہ قبل بلغاریہ اسرائیلی سیاحوں کی ایک بس پرحملے میں ملوث دو لبنانی نژاد افراد بھی شامل ہوں گے۔ ان میں سے ایک ملزم کے پاس کینیڈین اور دوسرے کےپاس آسٹریلیا کی شہریت بھی ہے۔

یورپی سفارتی ذرائع کا کہنا ہےحزب اللہ کی ذیلی تنظیم پرپابندیوں سے یورپی یونین اور حزب اللہ کے درمیان مذاکرات تعطل کا شکار نہیں ہوں گے۔ نیز یورپی یونین جنوبی لبنان میں اپنے امدادی کاموں کے لیے حزب اللہ کی مدد جاری رکھے گی۔

العربیہ کے نامہ نگارکے مطابق حزب اللہ کے عسکری بازو پرپابندیوں کے نفاذ کا اہم سبب تنظیم کی شام میں باغی تحریک کچلنے کے لیے صدر بشارالاسد کی معاونت ہے۔ اس کے علاوہ یورپی یونین میں ہونے والی دہشت گردی کی بعض کارروائیوں میں حزب اللہ کے ماخوذ ہونے کیے جانے کے واقعات نے بھی تنظیم کے خلاف سخت اقدامات کی راہ ہموار کرنے میں مدد کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں