سینا میں مسلح جنگجوؤں کے حملوں میں 6 مصری ہلاک

العریش اور الرفح میں سکیورٹی چیک پوائنٹس اور پولیس تھانوں پر فائرنگ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مصر کے غزہ کی پٹی اور اسرائیل کے ساتھ واقع علاقے جزیرہ نما سینا میں مسلح جنگجوؤں کے پے درپے حملوں میں چھے افراد ہلاک اور گیارہ زخمی ہوگئے ہیں۔

مصر کے سکیورٹی ذرائع کے مطابق اسلامی جنگجوؤں نے سینا کے دو شمالی شہروں العریش اور الرفح میں سوموار کو پولیس اسٹیشنوں اور سکیورٹی اور آرمی کے چیک پوائنٹس پر کم سے کم دس حملے کیے ہیں۔ ان حملوں میں دو عام شہری ، دو فوجی افسر اور دو پولیس اہلکار مارے گئے ہیں۔ جولائی میں سینا کے علاقے میں جنگجوؤں کے حملوں میں ایک دن میں یہ سب سے زیادہ ہلاکتیں ہیں۔

واضح رہے کہ شمالی سینا میں فروری 2011ء میں سابق صدر حسنی مبارک کی برطرفی کے بعد سے مسلح جنگجو بروئے کار ہیں اور وہ مصر کے سکیورٹی اہلکاروں پر وقفے وقفے سے حملے کرتے رہتے ہیں لیکن منتخب جمہوری صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی برطرفی کے بعد سے ان حملوں میں تیزی آئی ہے۔

مسلح جنگجو شمالی سینا میں پولیس اور فوج کے چیک پوائنٹس پر سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کو اپنے حملوں میں نشانہ بنا رہے ہیں جبکہ عام شہری بھی ان حملوں کا ہدف بن رہے ہیں اور گذشتہ ہفتے انھوں نے ایک سیمنٹ فیکٹری کے ورکروں پر بھی حملہ کیا تھا جس کے نتیجے میں تین کارکن ہلاک ہوگئے تھے۔

مصر کی سکیورٹی فورسز نے سینا میں حالیہ حملوں کے بعد سے جنگجوؤں کے خلاف کارروائی شروع کررکھی ہے اور اسرائیل نے بھی شمالی سینا میں ''دہشت گردی کے خلاف جنگ'' کے لیے دو بٹالینز تعینات کرنے کی منظوری دی ہے۔18 جولائی کو مصر کے فوجی ذرائع نے ایک کارروائی میں دس جہادیوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

جولائی کے آغاز میں مصر کے ایک سینیر سکیورٹی عہدے دار نے غزہ اور سینا کے درمیان چالیس زیر زمین سرنگوں کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا تھا اور یہ کارروائی علاقے میں دہشت گردی کے خلاف کریک ڈاؤن کے حصے کے طور پر کی گئی تھی۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ منتخب جمہوری صدر محمد مرسی کی مسلح افواج کے ہاتھوں برطرفی کے بعد سے شمالی سینا میں تشدد کے واقعات میں اضافے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسلامی انتہا پسند مصر میں جاری عدم استحکام سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کررہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں