صدر مرسی حکومت کا خاتمہ 'سیاسی اسلام' کی کمزوری ہے: نیتن یاہو

مصر میں فوجی انقلاب کے تین ہفتے بعد اسرائیلی وزیر اعظم کی لب کشائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

انتہا پسند اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے مصر کے منتخب صدر ڈاکٹر مرسی کی فوج کے ہاتھوں برطرفی کو سیاسی اسلام کی کمزوریوں کا مظہر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ''میں یقین رکھتا ہوں کہ ایک لمبے عرصے سے گھسٹتے چلے آنے والے اسلامی گروہ ناکامی کے قریب ہیں کیونکہ یہ ملکوں کی معاشی، سیاسی اور ثقافتی اعتبار سے ترقی ایسا کوئی پروگرام پیش نہیں کرتے جو لوگوں کی ضرورت ہے۔''

اسرائیلی وزیر اعظم مصر میں پیش آنے والی صورت حال پر تین ہفتے خاموش رہے اور اب عبوری حکومت کی تشکیل کے بعد پہلی مرتبہ بلواسطہ طور پرانہوں نے مصر کی فوج کے اقدام کی تحسین کی ہے۔ نیتن یاہو نے اس امر کا اظہار جرمن ہفت روزہ "ویٹم سن ٹیگ" کو دیے گئے انٹرویو میں کیا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ''انتہا پسند اسلام عالمی معاشی چیلنجوں اور اطلاعاتی انقلاب سے نمٹنے کے لیے موزوں نہیں ہے اور پوری طرح ناکام ہے۔''

اسرائیلی وزیر اعظم نے مرسی حکومت کی برطرفی کا جواز بتاتے ہوئے الزام لگایا کہ ''اسلام جدت پسندی کی خواہش کے خلاف ہے، لہذا اسے بہرحال ناکام ہونا ہے۔''

واضح رہے کہ اس سے پہلے اسرائیِل کافی محتاط رہا ہے اور نیتن یاہو نے بھی ڈاکٹر مرسی کی برطرفی پر بات کرنے سے گریز کیا تھا، اگرچہ اس اعتماد کا اظہار ضرور کیا تھا کہ نئی مصری قیادت اسرائیل کے ساتھ منجمد کیے ہوئے تعلقات کو بحال کر دے گی۔ اپنے اس انٹرویو کے دوران نیتن یاہو نے امریکی تعاون سے ہونے والے مصر۔اسرائیل کیمپ ڈیوڈ معاہدے کو ہر صورت قائم رکھنے پر زور دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں