القاعدہ نے عراقی جیلوں پر حملوں کی ذمے داری قبول کرلی

ابو غریب اور التاجی کی جیل سے 500 سے زیادہ قیدی رہا کرا لیے گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عراق اور شام میں القاعدہ کے فرنٹ گروپ نے دارالحکومت بغداد کی مشہور زمانہ ابوغریب جیل اور شمال میں واقع قصبے التاجی کی جیل پر حملوں کی ذمے داری قبول کر لی ہے اور کہا ہے ان حملوں میں پانچ سو سے زیادہ قیدیوں کو رہا کرا لیا گیا ہے۔

القاعدہ سے وابستہ جہادی تنظیم ریاست اسلامی عراق اور شام نے منگل کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ ''اس کے مجاہدین نے کئی ماہ کی تیاریوں کے بعد صفوی حکومت کی دوبڑی جیلوں ابوغریب اور التاجی پر حملے کیے ہیں''۔

واضح رہے کہ اسی سال کے آغاز میں عراق اور شام میں القاعدہ کی تنظیموں کے ادغام سے ریاست اسلامی عراق اور شام معرض وجود میں آئی تھی اور یہ تنظیم عراق میں اہل تشیع کی حکومت کے لیے صفوی کی اصطلاح استعمال کرتی ہے۔

القاعدہ کی ذیلی تنظیم کا یہ بیان منگل کو جہادی فورمز پر جاری کیا گیا ہے جبکہ عراقی سکیورٹی فورسز ان دونوں جیلوں پر حملوں کے نتیجے میں فرار ہونے والے قیدیوں پیچھا کررہی ہیں۔

القاعدہ کی اس تنظیم کے مسلح افراد نے اتوار کی شام بغداد کے مغرب میں واقع ابو غریب جیل اور شمال میں واقع قصبے التاجی کی جیل پر حملے کیے تھے۔ عراقی حکام کا کہنا ہے کہ التاجی جیل سے تو کوئی قیدی فرار نہیں ہوا ہے اور صرف ابوغریب جیل سے قیدی بھاگ جانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

عراق کے ایک اعلیٰ سکیورٹی عہدے دار نے فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فراریوں میں القاعدہ کے سرکردہ ارکان شامل ہیں اور وہ اب انتقامی حملے کرسکتے ہیں۔

اس عہدے دار کے بہ قول: ''عراق کے لیے تاریک دن آنے والے ہیں۔ جیل سے بھاگ جانے والوں میں القاعدہ کے بعض سینیر لیڈر شامل تھے اور یہ کارروائی صرف لیڈروں کے اس گروپ کو چھڑوانے کے لیے ہی کی گئی ہے۔ اب یہ لوگ انتقامی کارروائیاں کریں گے اور ان میں سے بعض خودکش حملے بھی کرسکتے ہیں''۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں