ایران کا فٹ بال کپتان کو یو اے ای میں کھیلنے کی اجازت دینے سے انکار

خلیج فارس کو خلیج عرب قرار دینے پر تنازعے سے ایران کے 10فٹ بال کھلاڑی متاثر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایران نے قومی فٹ بال ٹیم کے کپتان جواد نیکو نام کو خلیج کے نام کے تنازعے پر پڑوسی ملک متحدہ عرب امارات میں کھیلنے کی اجازت دینے سے انکار کردیا ہے۔

بتیس سالہ نیکونام نے متحدہ عرب امارات میں نئے قائم کردہ شارجہ کلب کے ساتھ اسی ہفتے بیس لاکھ ڈالرز مالیت کا معاہدہ کیا تھا لیکن ایرانی حکام نے اس معاہدے کو بلاک کردیا ہے۔

ایران کی فٹ بال فیڈریشن کے سربراہ علی کافشیان نے کہا ہے کہ ''ہم نے انھیں اماراتی لیگ میں شمولیت سے روک دیا ہے۔انھیں اس کے بدلے میں بھاری رقم دی جائے گی۔اس ضمن میں ہم صدر محمود احمدی نژاد سے معاوضے کی رقم جاری کرنے کے لیے کہیں گے''۔

فارس نیوز ایجنسی کے مطابق علی کافشیان کا کہنا ہے کہ ''ایران کے آٹھ نو اور کھلاڑی بھی نیکو نام کی طرح شارجہ کلب کی جانب سے کھیلنے کے لیے تیار تھے لیکن انھیں بھی اس کلب میں شمولیت کی اجازت دینے سے انکار کردیا گیا ہے اور ان کے مالی نقصان کا ازالہ کیا جائے گا''۔

علی کافشیان نے یہ تو نہیں بتایا کہ نیکونام کو شارجہ کلب میں شمولیت کی اجازت دینے سے کیوں انکار کیا گیا ہے لیکن ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ عالمی کھلاڑی کو یو اے ای کی نئی ''عربیئن گلف لیگ'' میں اس کے نام کی وجہ سے کھیلنے کی اجازت دینے سے انکار کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ ایران علاقائی امور کے حوالے سے حساس واقع ہوا ہے اور وہ خلیج کو ہمیشہ ''خلیج فارس'' کے نام سے ہی پکارتا رہا ہے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ تاریخی شواہد بھی اس کے موقف کی تائید کرتے ہیں اور قدیم نقشوں میں اس کو خلیج فارس ہی کہا گیا ہے۔

ایران کی اپنی فٹ بال فیڈریشن کے تحت بھی خلیج فارس کپ (پرشین گلف کپ) نام موجود ہے۔وہ اس نام کا بھرپور دفاع کرتا چلا آ رہا ہے اور ایران میں ہر سال تیس اپریل کو ''خلیج فارس کا قومی دن'' منایا جاتا ہے۔دوسری جانب تیل کی دولت سے مالا مال خطے میں واقع عرب ممالک اس کو خلیج عرب یا سادہ طور پر صرف خلیج ہی کے نام سے پکارتے ہیں اور وہ اس کو خلیج فارس کہنے کے بجائے اس نام پر اصرار کر رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں