بحرین: مسجد رفاع کار بم دھماکے میں ملوث تین افراد گرفتار

خفیہ کیمروں نے ملزمان تک رسائی میں مدد کی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

خلیجی ریاست بحرین کی پولیس نے گذشتہ ہفتے الرفاع شہرمیں جامع مسجد کے قریب ہوئے کار بم دھماکے میں ملوث تین افراد کو حراست میں لینے کا دعویٰ کیا ہے۔

بحرینی وزارت داخلہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ الرفاع شہرمیں چند روز پیشتر جامع مسجد کے قریب بارود سے بھری کارکے ذریعے کیے گئے دھماکے میں ملوث تین افراد کو گرفتار کرلیا گیا ہے جن سے تفتیش جاری ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ملزمان تک رسائی کے لیے خفیہ کیمروں سے حاصل ہونے والی فوٹیج نے کافی حد تک معاونت کی اور نہایت احتیاط اور راز داری کے ساتھ اس پیچیدہ مشن میں کامیابی حاصل کرلی گئی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق بحرین کے چیف سیکیورٹی جنرل میجر جنرل طارق الحسن نے میڈیا کو بتایا کہ جائے واردات سے کئی گاڑیوں کے فرارکی ٹھوس ثبوت پرمشتمل فوٹیج ملنے کے بعد انہوں نے مفرور گاڑیوں کی تلاش شروع کی۔ اس کے علاوہ فنگرپرنٹس بھی حاصل کیے گئے، جن کی مدد سے ملزمان کو پکڑا گیا ہے۔

جنرل طارق الحسن کا کہنا تھا کہ دھماکے میں استعمال کی جانے والی اور دیگرمتعدد کاریں اہل تشیع کے اکثریتی علاقے"سلمہ باد" سے چوری تھیں اوردھماکے سے اڑائی گئی کار میں کرزکان کے مقام پر بارود بھرا گیا تھا۔

ایک سوال کے جواب میں جنرل الحسن نے اپوزیشن رہ نماؤں کے اس دعوے کو مسترد کردیا ہے کہ دھماکے کے وقت مسجد میں کوئی شخص نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ جب الرفاع شہرکی جامع مسجد کے قریب کاربم دھماکہ کیا گیا تو اس وقت سیکڑوں افراد نماز تراویح ادا کر رہے تھے۔ مسجد کے باہر نمازیوں کی کئی گاڑیاں بھی کھڑی تھیں، جنہیں دھماکے سے نقصان پہنچا۔

بحرینی سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ حراست میں لیے گئے ملزمان ایران نواز "الاشتر الشیرازیہ" نامی گروپ سے تعلق رکھتےہیں۔ الرفاع شہرمیں دہشت گردی کی کارروائی میں اس گروپ کے کئی دیگر عناصربھی ماخوذ ہیں تاہم ابھی تک ان کی گرفتاری عمل میں نہیں لائی جا سکی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں