شام میں فوجی مداخلت کے لیے امریکی جنرل کے پانچ آپشنز

جنگ میں شرکت کا فیصلہ سیاسی قیادت کرے گی: چئیرمین آرمڈ سروسز کمیٹی سینیٹ کے نام خط

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکا کے چئیرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل مارٹن ڈیمپسی نے شام میں فوجی مداخلت کے لیے پانچ آپشنز پیش کیے ہیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ جنگ میں کودنے کا فیصلہ کرنا سول قیادت کا کام ہے۔

جنرل ڈیپمسی نے یہ پانچ آپشنز ایک غیر کلاسیفائیڈ خط میں پیش کیے ہیں جو سوموار کو جاری کیا گیا ہے۔ انھوں نے اپنے 19 جولائی کے اس خط میں لکھا ہے کہ ''ان آپشنز کا استعمال ایک سیاسی فیصلے پر منحصر ہوگا، اس کو معمولی نہیں لیا جانا چاہیے کیونکہ یہ جنگ کے فعل سے کم نہیں ہوگا''۔

ان آپشنز میں باغیوں کی غیر مہلک انٹیلی جنس اور ہتھیار چلانے کی تربیت سے لے کر شام میں برسرزمین امریکی بوٹوں کی آمد تک تجاویز شامل ہیں تاکہ شامی رجیم کے کیمیائی ہتھیاروں کو محفوظ بنایا جاسکے۔ جنرل ڈیمپسی نے اس خط میں امریکی سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے چئیرمین کارل لیون کو مخاطب کیا ہے اور لکھا ہے کہ ان آپشنز میں سے کسی ایک بارے میں فیصلہ سیاسی ہوگا کیونکہ ہماری قوم کو اپنی سول قیادت پر اعتماد ہے۔

انھوں نے خط میں شام میں جنگ میں کودنے سے لاحق خطرات سے بھی آگاہ کیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ اس سے انتہا پسند عناصر طاقتور ہوسکتے ہیں اور شامی رجیم انتقامی حملے کرسکتا ہے۔ انھوں نے لکھا ہے کہ ''ہم جب کوئی اقدام کرتے ہیں تو پھر ہمیں آگے کے لیے بھی تیار رہنا چاہیے۔ گہری مداخلت سے بچنا مشکل ہے''۔

واضح رہے کہ امریکا اس وقت شامی صدر بشارالاسد کے خلاف برسرپیکار گروپوں کو انسانی امداد اور غیرمہلک معاونت مہیا کررہا ہے۔ امریکی صدر براک اوبامانے جون میں شامی حکومت کی جانب سے مخالفین خلاف کیمیائی ہتھِیاروں کے استعمال کے ثبوت منظرعام پر آنے کے بعد باغیوں کو اسلحی امداد مہیا کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن اس کو ابھی تک عملی جامہ نہیں پہنایا گیا ہے۔

جنرل ڈیمپسی کی پیش کردہ تجاویز میں سے ایک میں کہا گیا ہے کہ امریکا شامی رجیم کی فضائی، زمینی اور بحری دفاعی صلاحیت کو مغلوب کرنے کے لیے مہلک حملے بھی کرسکتا ہے۔ تاہم اس آپشن پرعمل درآمد کے لیے سیکڑوں جنگی طیارے اور بحری جہاز درکار ہوں گے اور ان کے حملوں کے دورانیے کے مطابق ان کی لاگت اربوں ڈالرز میں ہوسکتی ہے۔

مارٹن ڈمپسی نے اگلے روز سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کو بتایا کہ شام کے لیے جن فوجی آپشنز پر غور کیا جا رہا ہے، ان میں نوفلائی زونز کا قیام، زمینی چڑھائی، القاعدہ کے جنگجوؤں کے خلاف بغیر پائیلٹ جاسوس طیاروں کے حملے اور شامی رجیم کی کیمیائی ہتھیاروں کی جگہوں سمیت اہم تنصیبات اور انفرااسٹرکچر پر میزائل حملے شامل ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ شامی صدر بشارالاسد مزید ایک سال تک اقتدار میں رہ سکتے ہیں کیونکہ اس وقت حالات ان کے موافق ہوگئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں