قاہرہ میں مرسی کے حامیوں اور مخالفین میں جھڑپیں،9 افراد ہلاک

پولیس مرسی مخالفین کے ساتھ، اخوان کا فوج پردہشت زدہ کرنے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں برطرف صدر محمد مرسی کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان خونریز جھڑپوں میں نو افراد ہلاک اور بیسیوں زخمی ہوگئے ہیں۔

فریقین کے درمیان جامعہ قاہرہ کے نزدیک منگل کی صبح دوبارہ جھڑپیں شروع ہوئی تھیں جہاں ڈاکٹر محمد مرسی کے حامیوں نے دھرنا دے رکھا ہے اور وہ ان کی بحالی کا مطالبہ کررہے ہیں۔

مصر کی وزارت صحت نے ان جھڑپوں میں نو افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ ایک سرکاری نیوز ویب سائٹ اہرام آن لائن کی اطلاع کے مطابق پولیس نے متحارب دھڑوں کے درمیان تشدد پر قابو پانے کے لیے اشک آور گیس کے گولے پھینکے ہیں اور علاقے میں متعدد کاروں کو تباہ یا نذرآتش کردیا گیا ہے۔

وزارت صحت کے بیان کے مطابق سوموار کو قاہرہ کے وسط میں برطرف صدر مرسی کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان لڑائی میں چار افراد ہلاک ہوگئے تھے اور ان کے ایک دوسرے پر پتھراؤ کے نتیجے میں چھبیس افراد زخمی ہوئے تھے۔

پولیس نے متحارب گروہوں کو منتشر کرنے کے لیے اشک آور گیس کے گولے پھینکے ہیں لیکن اس نے واضح طور پر مرسی مخالفین کا ساتھ دیا ہے۔ مرسی کے مخالفین میں شامل ایک بائیس سالہ نوجوان کا کہنا تھا کہ ''پولیس ہمارے ساتھ ہے، اُن فاشسٹوں نے ایک مرتبہ پھر ہم پر حملہ کیا تھا''۔ مرسی مخالفین پولیس لائن کی اوٹ سے اخوان اور دوسری جماعتوں کے کارکنان پر پتھراؤ کر رہے تھے لیکن وہ الٹا الزام انہی کو دے رہے تھے کہ وہ ان پر حملہ آور ہوئے ہیں۔

اخوان المسلمون کے سیاسی چہرہ حریت اورعدل پارٹی نے اپنے فیس بُک صفحے پر جاری کردہ مختصر بیان میں فوج پر برطرف صدر کے حامیوں کو دہشت زدہ کرنے کا الزام عاید کیا ہے اور کہا ہے کہ فوجی انقلاب کے لیڈروں نے مصر میں پرامن مظاہرین کو دہشت زدہ کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں