راس الخیمہ ائیرلائنز کی اگست سے دو نئے روٹس پر پروازیں

اسلام آباد روٹ کا افتتاح 5 اگست ہو گا، ہفتے میں تین پروازیں ہوں گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

تیزی سے ترقی کی منازل کرتی متحدہ عرب امارات کی راس الخیمہ ائیر ویز (آر اے کے) نے اپنے توسیعی پروگرام کے تحت اگست کے اوائل میں پانچ میں سے دو نئے روٹس پر پروازیں شروع کرنے کا اعلان کیا ہے

ان نئے روٹس میں راس الخیمہ سے اسلام آباد کے لیے پانچ اگست اور راس الخیمہ سے عمان (اردن) کے لیے سات اگست سے پروازیں شروع کی جائیں گی۔ اس طرح اس کے آپریشنل روٹس کی تعداد گیارہ ہوجائے گی جبکہ فضائی کمپنی 2015ء تک اپنے روٹس کی تعداد چالیس تک بڑھانے کا ارادہ رکھتی ہے۔

مؤقر معاصرعزیز 'سعودی گزٹ' کے مطابق راس الخیمہ ائیرویز کے صدر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر المرابط الصواف نے جولائی کے آغاز میں نئے روٹس پر پروازیں شروع کرنے کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ ہم مکمل تیاریوں کے بعد ان روٹس پر اپنی پروازیں چلائیں گے۔

متحدہ عرب امارات کی اس فضائی کمپنی کا اسلام آباد کا نیا روٹ پاکستان میں اس کی تیسری منزل ہے۔ اس سے پہلے اس نے راس الخیمہ سے لاہور اور پشاور کے لیے 2011ء میں ہفتے میں دو پروازوں کا آغاز کیا تھا۔ اب پاکستانی مسافروں کی زیادہ تعداد کے پیش نظر ان تینوں شہروں کے لیے ہفتے میں تین تین پروازیں چلائی جائیں گی۔

المرابط الصواف کا کہنا تھا کہ چھے لاکھ سے زیادہ پاکستانی شہری متحدہ عرب امارات کی معیشت میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔ آر اے کے ائیرویز پاکستان کے سفر کے لیے قابل اعتماد اور مسابقتی سفری سہولتیں مہیا کر رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہماری کامیابی کی ایک بڑی وجہ راس الخیمہ بین الاقوامی ہوائی اڈے تک مفت شٹل سروس بھی ہے۔ اس کے علاوہ کم کرایوں کے نتائج بھی برآمد ہو رہے ہیں۔

پاکستانیوں کی طرح اردنی شہریوں کی ایک بڑی تعداد بھی راس الخیمہ میں آباد ہے اور اس کے پیش نظر اب عمان کے لیے براہ راست پروازیں چلائی جائیں گی۔ یہ بحر متوسطہ کے مشرق میں واقع کس ملک میں آر اے کے کی پہلی انٹری ہوگی۔ آر اے کے کے صدر کے مطابق ہم یو اے ای اور اردن کے درمیان دوطرفہ سیاحتی روابطہ کے فروغ کے لیے کوشاں ہیں تاکہ دونوں کی معیشت کو ترقی ملے۔

آر اے کے کا یو اے ای میں پانچ اور بڑی فضائی کمپنیوں سے مقابلہ ہے جو بڑے مسافر طیارے چلا رہی ہیں۔ المرابط الصواف کا کہنا ہے راس الخیمہ جارحانہ انداز میں ترقی کررہا ہے، اس لیے ہم بھی حکومت کی طرح جارحانہ انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ پانچ سال میں، میں کمپنی کو خطے کی بڑی ائیرلائنز میں سے ایک بنانا چاہتا ہوں۔ پانچ سے پندرہ سال کے دوران ہم اوپر کی جانب جائیں گے اور دنیا بھر میں ہماری پوزیشن ہوگی اور بین الاقوامی سطح پر ایک شناخت ہوگی۔

ان کے اس عزم کا اظہار فضائی کمپنی کو ملنے والے ردعمل سے بھی ہوتا ہے۔ سنہ2012ء کے دوران اس کے مسافروں (صارفین) کی تعداد تین لاکھ سے زیادہ رہی تھی۔ ان میں زیادہ تر غیرملکی سیاح اور تارکین وطن تھے۔ آر اے کے نے 2014ء میں منافع میں جانے کا ہدف مقرر کررکھا ہے اور وہ مشرق وسطیٰ اور مشرق بعید کے ممالک سے تعلق رکھنے والے مسافروں پر اپنی توجہ مرکوز کر رہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں