عراقی جیلوں پر حملے 'اندر کھاتے ملے ہوئے محافظوں' کی کارستانی تھی

حکام فراریوں کے انتقامی حملوں سے خوفزدہ ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اتوار کے روز عراقی دارلحکومت بغداد کے قریب دو جیلوں پر حملوں کو عراقی حکام 'اندر کھاتے ملے ہوئے' اہلکاروں کی کارستانی قرار دے رہے ہیں. ان حملوں کے نتیجے میں بدنام زمانہ ابو غریب سمیت ایک دوسری جیل میں قید پانچ سو القاعدہ کے جنگجو فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے.

برطانوی اخبار 'دی ٹیلی گراف' نے عراقی وزارت داخلہ کے حوالے سے اپنی حالیہ اشاعت میں بتایا ہے کہ ابو غریب اور تاجی جیلوں پر حملہ کرنے والے اندر ڈیوٹی پر تعینات محافظوں سے ملے ہوئے تھے. دی ٹیلی گراف نے عراقی وزارت داخلہ کے اہلکار کا بیان نقل کیا ہے کہ "دونوں جیلوں کے گارڈز اور دہشت گردوں جتھوں کی ملی بھگت سے ہی جیل پر حملہ ممکن ہوا."

القاعدہ سے وابستہ جہادی تنظیم ریاست اسلامی عراق اور شام نے منگل کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ ''اس کے مجاہدین نے کئی ماہ کی تیاریوں کے بعد صفوی حکومت کی دوبڑی جیلوں ابوغریب اور التاجی پر حملے کیے ہیں''۔

عراق کے ایک اعلیٰ سکیورٹی عہدے دار نے فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فراریوں میں القاعدہ کے سرکردہ ارکان شامل ہیں اور وہ اب انتقامی حملے کرسکتے ہیں۔

اس عہدے دار کے بہ قول: ''عراق کے لیے تاریک دن آنے والے ہیں۔ جیل سے بھاگ جانے والوں میں القاعدہ کے بعض سینیر لیڈر شامل تھے اور یہ کارروائی صرف لیڈروں کے اس گروپ کو چھڑوانے کے لیے ہی کی گئی ہے۔ اب یہ لوگ انتقامی کارروائیاں کریں گے اور ان میں سے بعض خودکش حملے بھی کرسکتے ہیں''۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں